ابھی ابھی
صحت2 ذرائع سے تصدیق شدہ

عالمی ادارۂ صحت کی ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری

عالمی ادارۂ صحت نے ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی ہے۔ افریقہ میں پھیلی وبا سے، جو زیادہ تر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ہے، 5,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری
تصویر: Photo Credit: James Gathany Content Providers(s):… / Wikimedia Commons

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اہم نکات
  • عالمی ادارۂ صحت نے کانگو میں جاری ٹرائل میں دو ویکسین امیدواروں کو شامل کرنے کی منظوری دی۔
  • وبا بنڈی بوگیو وائرس سے پھیلی ہے اور 5,300 سے زائد جانیں لے چکی ہے۔
  • افریقہ سی ڈی سی کے مطابق 10,444 کیسز کی تصدیق ہوئی اور تصدیق شدہ کیسز میں شرحِ اموات 50 فیصد سے زیادہ ہے۔
5,300 سے زائدوبا میں اموات
10,444تصدیق شدہ کیسز
50 فیصد سے زیادہتصدیق شدہ کیسز میں شرحِ اموات
2شامل کی جانے والی ویکسینز

عالمی ادارۂ صحت نے بدھ کو ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی۔ میڈیکل ایکس پریس کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں ہوا ہے جب ڈاکٹر افریقہ میں پھیلی اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں 5,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دونوں امیدوار ویکسینز، یعنی ChAdOx1 BDBV اور موڈرنا کی mRNA-1469، اس ٹرائل میں شامل کی جائیں گی جو گزشتہ ماہ شروع ہوا تھا۔ اس ٹرائل میں ایروبو ویکسین استعمال ہو رہی ہے جو ایبولا وائرس کے لیے منظور شدہ ہے مگر بنڈی بوگیو وائرس کے لیے نہیں۔ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں تباہی مچانے والی وبا بنڈی بوگیو وائرس سے پھیلی ہے۔

ChAdOx1 BDBV کو آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے تیار کیا۔ یہ اور موڈرنا کی mRNA-1469 دونوں خاص طور پر بنڈی بوگیو وائرس کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ٹرائل کی قیادت کانگو کا قومی ادارہ برائے حیاتیاتی طبی تحقیق کر رہا ہے، جسے عالمی ادارۂ صحت سمیت شراکت داروں کی معاونت حاصل ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ تیدروس ادھانوم گیبریسس نے کہا: "آج عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کے گروپ ٹرائل میں دو ویکسین امیدواروں کو شامل کرنے کی سفارش کر رہے ہیں،" (انگریزی سے ترجمہ)۔

انہوں نے زور دیا کہ ویکسین دیگر اقدامات کا متبادل نہیں۔ ان کے الفاظ تھے: "ویکسین طاقتور ذریعہ ہیں، لیکن یہ ان آزمودہ اقدامات کا متبادل نہیں جو اس وقت جانیں بچا سکتے ہیں: ابتدائی علاج، رابطوں کی نشاندہی، آئسولیشن، محفوظ اور باوقار تدفین اور برادریوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی رابطہ،" (انگریزی سے ترجمہ)۔

پیر کو افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے کہا کہ براعظم میں جاری ایبولا وبا سے 5,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان اموات کی بڑی تعداد ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ہوئی۔

وبا میں اب تک 10,444 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور تصدیق شدہ کیسز میں شرحِ اموات 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی خبررساں سروس نے بھی بتایا کہ دونوں امیدوار کانگو کے کلینیکل ٹرائل میں شامل ہوں گے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستانی قارئین عالمی وباؤں پر نظر رکھتے ہیں اور عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے ویکسین ٹرائل کی منظوری صحت کے شعبے میں اہم پیش رفت ہے۔ رپورٹس میں پاکستان میں کسی کیس یا خطرے کا ذکر نہیں۔ ایک امیدوار ویکسین کی تیاری میں بھارت کا سیرم انسٹی ٹیوٹ شریک ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایبولاعالمی ادارۂ صحتکانگو

اس خبر پر مزید