ابھی ابھی
ٹیکنالوجی2 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان اور روس کا آئی ٹی مذاکرات کو کاروباری معاہدوں میں بدلنے پر زور

پاکستان اور روس نے 5 نومبر کو ویبینار میں ٹیکنالوجی تعاون کو تجارتی معاہدوں کی جانب بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ قریبی تعلقات سے جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

پاکستان اور روس کا آئی ٹی مذاکرات کو کاروباری معاہدوں میں بدلنے پر زور
تصویر: Innovalabs / Pixabay
اہم نکات
  • پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ نے 5 نومبر کو تیسرا پاکستان-روس آئی ٹی تعاون ویبینار منعقد کیا۔
  • دونوں ممالک کی کمپنیاں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی میں مشترکہ منصوبوں پر غور کر رہی ہیں۔
  • 2025-26 میں آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں، جو تقریباً 20 فیصد اضافہ ہے۔
4.6 ارب ڈالرآئی ٹی و ٹیلی کام برآمدات، 2025-26
75,000 سے زیادہسالانہ آئی ٹی گریجویٹ
10 لاکھ2030 تک اے آئی ماہرین کا ہدف
646 ملینایک سہ ماہی میں راست لین دین

پاکستان اور روس نے حکومتی سطح کے ٹیکنالوجی مذاکرات کو تجارتی معاہدوں میں بدلنے کے لیے دونوں ممالک کی کمپنیوں کو یکجا کیا ہے۔ تیسرا پاکستان-روس آئی ٹی تعاون ویبینار 5 نومبر 2026 کو منعقد ہوا۔

ویبینار کا انعقاد پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ نے ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کے اشتراک سے کیا، جبکہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے معاونت کی۔ پاکستانی شرکا اسلام آباد میں موجود تھے اور روسی مقررین ماسکو سے آن لائن شریک ہوئے۔ سرکاری حکام، صنعتی نمائندے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس میں شریک تھیں۔

گفتگو میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل مہارتیں اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل تھے۔ پرو پاکستانی کے مطابق ایبرکس، پازیٹو ٹیکنالوجیز، ٹی ایم سی اور روسی کوانٹم سینٹر سمیت کمپنیوں نے پاکستان، روس اور تیسرے ممالک کے لیے سائبر سکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، فن ٹیک اور اے آئی مصنوعات مل کر بنانے پر بات کی۔

مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ قریبی تعلقات سے جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے دونوں طرف کی کمپنیوں سے مشترکہ منصوبوں، پائلٹ پراجیکٹس اور منڈیوں تک رسائی کی اپیل کی۔ ان کے مطابق اڑان پاکستان منصوبے میں ای-پاکستان پانچ اہم ترجیحات میں شامل ہے اور مقصد 2035 تک معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچانا ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان سالانہ 75,000 سے زیادہ آئی ٹی گریجویٹ تیار کرتا ہے، 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین کو تربیت دینے کا ہدف رکھتا ہے اور سات نئے اے آئی مراکز قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے نادرا کے ڈیجیٹل شناختی نظام اور راست پلیٹ فارم کو تعاون کے مواقع قرار دیا اور کہا کہ راست نے ایک سہ ماہی میں 646 ملین لین دین نمٹائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی سائنسی مہارت پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کو سہارا دے سکتی ہے۔

روس کی نائب وزیر بیلا چرکیسووا نے پالیسی، سرمایہ کاری اور ابھرتی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر خطاب کیا۔ روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ماسکو میں پاکستانی سفارت خانہ مقامی کمپنیوں کی مدد کے لیے پی ایس ای بی کے ساتھ کام کرے گا۔

پی ایس ای بی کے چیف ایگزیکٹو فیصل جیدی نے مراحل بتائے: مواقع کی نشاندہی، موزوں کمپنیوں کا انتخاب اور مشترکہ پائلٹ منصوبوں کی تیاری۔ انہوں نے کہا کہ ہر شریک کمپنی کے پاس واضح موقع، متعلقہ شراکت دار اور اگلا قدم ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "شراکت داریاں ارادے کی کمی سے کم ہی ناکام ہوتی ہیں؛ وہ فالو اپ کی کمی سے ناکام ہوتی ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔

وفاقی سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان نے کہا کہ مذاکرات سے ٹھوس مواقع کی مختصر فہرست سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ضابطہ جاتی رکاوٹیں دور کرنے اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد کا وعدہ کیا تاکہ پہلے پائلٹ منصوبے بلا تاخیر شروع ہو سکیں۔ حکام کے مطابق عملی منصوبوں اور تجارتی شراکت داریوں کی جانب پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو روس اور تیسرے ممالک میں سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر، فن ٹیک اور اے آئی کے شعبوں میں برآمدی اور شراکت کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ شعبے کی برآمدات 2025-26 میں 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر رہیں، اور حکام کے مطابق کمپنیوں کے لیے ضابطہ جاتی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ نوجوان آئی ٹی گریجویٹس اور اے آئی تربیت حاصل کرنے والوں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ حکومت مہارتوں کے پروگرام اور اے آئی مراکز بڑھا رہی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پاکستان-روسآئی ٹی برآمداتپی ایس ای بی

اس خبر پر مزید