97 اضلاع میں 24 ملین بچوں کے لیے پولیو مہم، وزیر اعظم کا ایک ہفتے میں منصوبہ بنانے کا حکم
2 سے 8 نومبر تک جاری ملک گیر پولیو مہم کا ہدف 97 اضلاع میں تقریباً 24 ملین بچے ہیں۔ رواں سال نواں کیس سامنے آنے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک ہفتے میں مربوط منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں جاری ہے، ہدف تقریباً 24 ملین بچے
- ضلع خیبر سے نئے کیس کے بعد 2026 میں کیسز کی تعداد 9 ہو گئی
- وزیر اعظم نے ایک ہفتے میں مربوط انسداد پولیو منصوبے کا حکم دیا
- پنجاب کے مطابق 12 اضلاع میں تین دن میں 60 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے
پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی تازہ مہم 97 اضلاع میں جاری ہے۔ یہ مہم 2 نومبر کو شروع ہوئی اور 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق وہ حکومت اور شراکت داروں کی معاونت کر رہا ہے، اور مہم کا ہدف تقریباً 24 ملین بچے ہیں۔
وفاقی ڈائریکٹوریٹ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر موسیٰ خان نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں سے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے ٹیموں سے تعاون کی اپیل کی، جو گھر گھر جا کر قطرے پلا رہی ہیں۔
مہم میں سرحدی آبادیوں، ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی تصدیق والے اضلاع اور معمول کی ویکسینیشن کم ہونے والے علاقوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق بچوں کی قوتِ مدافعت مضبوط کرنے اور فالج سے بچانے کے لیے بار بار قطرے پلانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر موسیٰ خان نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کے لیے والدین، برادریوں، صحت کارکنوں اور حکام کی مشترکہ کوششیں لازمی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے انسداد پولیو کوششوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور حالیہ کیسز پر تشویش ظاہر کی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ضلع خیبر سے نیا کیس سامنے آیا، جس سے رواں سال کیسز کی تعداد 9 ہو گئی۔ خیبر پختونخوا میں ضلع خیبر سے 3، بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے 1 کیس ہے، اور ضلع خیبر کے تمام کیس افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس سے منسلک ہیں۔ سندھ میں کراچی ایسٹ اور سجاول سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو ٹیم فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کرے اور وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریوں سے ملاقات کرے۔ انہوں نے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں مربوط منصوبہ تیار کرنے اور متاثرہ اور تشویش ناک علاقوں میں معمول کی ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانے کا حکم دیا۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ٹیموں کو بہتر سکیورٹی اور رسائی دی جا رہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد اور بلوچستان میں 2025 اور 2026 میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پولیو سے پاک ہیں، جبکہ سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی سطح اس سال کم ہوئی۔ افغانستان سے آمدورفت کو پولیو پھیلنے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
منٹ مرر کے مطابق پنجاب میں 12 اضلاع میں مہم مکمل ہو گئی جہاں تین دن میں 60 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے، جبکہ لاہور میں مہم اتوار تک جاری رہے گی۔ نوائے وقت کے مطابق خیبر پختونخوا میں سخت سکیورٹی میں مہم تیسرے روز بھی جاری رہی۔ راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر نے دوسرے دن کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رہ جانے والے اور انکاری کیسز میں کوریج تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پس منظر
خبر پی کے نے یکم نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ سال کی تیسری ذیلی قومی پولیو مہم 2 نومبر کو 97 اضلاع میں شروع ہو کر 8 نومبر تک جاری رہے گی اور اس کا ہدف 23.9 ملین بچے ہیں۔ اسی دن نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق ضلع خیبر سے 2026 کا آٹھواں کیس بھی رپورٹ ہوا تھا۔
یہ کیوں اہم ہے
97 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کے والدین سے کہا گیا ہے کہ مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلوائیں، اور ٹیمیں گھروں پر جا رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے خاندان، خاص طور پر خیبر، بنوں اور شمالی وزیرستان میں، ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں اس سال کیس سامنے آئے ہیں۔ سرحدی آبادیاں اور معمول کی ویکسینیشن کم والے علاقے زیادہ خطرے والے قرار دیے گئے ہیں۔ حکومت کا ایک ہفتے کا منصوبہ صوبوں میں ویکسینیشن کے انتظام پر اثر ڈالے گا۔



