امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کانگریس پر جیت، معاشی پالیسی بدلنے کا امکان
منگل کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں جیت لیے ہیں۔ وہ جنوری میں اقتدار سنبھالیں گے اور کہتے ہیں کہ وہ مہنگائی کم کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کا احتساب کرنے کی کوشش کریں گے۔

- انادولو ایجنسی کے مطابق غیر سرکاری نتائج میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان دونوں جیت لیے۔
- نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھائے گی، جبکہ عارضی فنڈنگ 11 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔
- ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ نتیجے سے تہران کے بارے میں امریکی پالیسی نہیں بدلے گی، تاہم کچھ حکام اسے جنگ کے خلاف ردعمل سمجھتے ہیں۔
انادولو ایجنسی کے مطابق منگل کے وسط مدتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج میں ڈیموکریٹس نے امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ فرانس 24 نے اسے بھاری کامیابی قرار دیا اور کہا کہ ڈیموکریٹس جنوری میں دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔
نو منتخب ارکان کے 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھانے تک ریپبلکن اکثریت برقرار رہے گی۔ انادولو کے مطابق ڈیموکریٹس کی اس جیت سے امریکی معاشی پالیسی کا رخ بدل سکتا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ وہ اس کامیابی کو مہنگائی کم کرنے اور انتظامیہ کا احتساب کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ فرانس 24 کے مطابق اپنا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے انہیں خود ٹرمپ سے سمجھوتے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ انادولو نے بتایا کہ ٹرمپ نے پہلے ریپبلکنز کی شکست کی صورت میں ہر قانون سازی کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی تھی، مگر انتخابی رات ان کا لہجہ نرم رہا۔
آنے والے ایوان کے اسپیکر حکیم جیفریز نے کہا: "میڈیکیڈ میں کٹوتیاں واپس لی جائیں اور افورڈیبل کیئر ایکٹ کے تحت ٹیکس کریڈٹ بحال کیے جائیں۔" (انگریزی سے ترجمہ)
انادولو کے مطابق نئی کانگریس کو مالی مسائل کا سامنا ہے۔ بجٹ خسارہ 2 ٹریلین ڈالر ہے اور قانون سازوں کو مالی سال 2027 کا بجٹ 11 دسمبر کو عارضی فنڈنگ ختم ہونے سے پہلے طے کرنا ہے۔ پیر تک امریکی قومی قرض 40.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا، جو 41.1 ٹریلین ڈالر کی قانونی حد کے قریب ہے۔
انادولو نے ایران جنگ اور ایندھن کی قیمتوں کا بھی ذکر کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول اوسطاً 4 ڈالر فی گیلن سے اوپر اور ڈیزل 6 ڈالر سے اوپر ہے، جو سالانہ بنیاد پر بالترتیب 35 فیصد اور 69 فیصد زیادہ ہے۔ انادولو کے مطابق ٹیکنالوجی پر سخت نگرانی کے خدشات نے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹر کمپنیوں کے حصص پر دباؤ ڈالا ہے۔
ڈوئچے ویلے کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بیان میں کہا: "اگر اب بھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ رعایتوں یا امریکی سیاسی نظام میں جماعتی تبدیلیوں سے امریکہ کو ایرانی قوم سے دشمنی چھوڑنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ) پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا: "امریکیوں نے جنگ کو ناں کہہ دی" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ بڑھتی مہنگائی نے ریپبلکنز کی شکست میں کردار ادا کیا۔
پس منظر
خبر.پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی گنتی کے مطابق، جسے الجزیرہ نے نقل کیا، ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے ہیں۔ 5 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ ٹرمپ نے مانا کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھنے والی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن شکست پر اثر ڈالا۔
یہ کیوں اہم ہے
ایران جنگ اور تجارت سے متعلق امریکی پالیسی کا اثر پاکستان پر پڑتا ہے اور نئی کانگریس دونوں کو متاثر کرے گی۔ ایندھن کی قیمتیں گھرانوں کے لیے اہم مسئلہ ہیں: خبر.پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر کو پیٹرول 362 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 387.81 روپے فی لیٹر تھا۔ 5 نومبر کو انٹربینک میں ڈالر 276.67 روپے پر بند ہوا، اس لیے امریکی بجٹ اور قرض کے فیصلوں پر پاکستانی کاروباری حلقے اور سرمایہ کار نظر رکھتے ہیں۔



