وزیراعظم کا قومی انسداد پولیو حکمت عملی کے لیے ایک ہفتے کا الٹی میٹم
وزیراعظم شہباز شریف نے چاروں صوبوں سے مشاورت اور ایک ہفتے میں مربوط پولیو منصوبہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ 5 نومبر کو ضلع خیبر سے نیا کیس سامنے آنے کے بعد 2026 میں کیسز کی تعداد 9 ہو گئی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- وزیراعظم نے ایک ہفتے میں مربوط اور جامع انسداد پولیو منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا۔
- 5 نومبر کو ضلع خیبر سے اس سال کا نواں کیس رپورٹ ہوا۔
- نو میں سے سات کیس خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے ہیں۔
- انسداد پولیو ورکرز کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر صوبوں سے مشاورت مکمل کر کے پولیو کے خاتمے کے لیے مربوط اور جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔ انہوں نے یہ ہدایت انسداد پولیو کوششوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی، جیسا کہ روزنامہ جنگ اور اے پی پی نے بتایا۔
اجلاس کو پولیو کی موجودہ صورتحال، حالیہ کیسز اور اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے حالیہ کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: "پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اس چیلنج سے زیادہ مضبوط ہے"۔
اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، وفاقی سیکریٹری صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے مشاورت کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام صوبوں اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے پولیو کا خاتمہ کیا جائے۔
اے پی پی کے مطابق جمعرات 5 نومبر کو ضلع خیبر سے نیا کیس سامنے آنے کے بعد 2026 میں ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہو گئی۔ خیبر پختونخوا میں اس سال سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں: خیبر اور بنوں میں تین تین اور شمالی وزیرستان میں ایک۔ سندھ میں دو کیس ہیں، ایک کراچی ایسٹ اور ایک سجاول سے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع خیبر کے تمام کیسز کا تعلق افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس سے ہے، اور افغانستان سے سرحد پار آمدورفت پاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا سبب ہے۔
دیگر علاقوں کی صورتحال نسبتاً بہتر بتائی گئی۔ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، بلوچستان میں 2025 اور 2026 میں کوئی کیس نہیں آیا، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پولیو سے پاک ہیں۔ اس سال سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی نشاندہی بھی کم ہوئی۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں، خصوصاً پولیو سے متاثرہ اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں، معمول کی ویکسینیشن بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ مہمات کے دوران انسداد پولیو ورکرز کے تحفظ کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق ٹیموں کی سیکیورٹی مضبوط بنانے اور جنوبی خیبر پختونخوا کے اضلاع تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پس منظر
خبر.پی کے نے 1 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ضلع خیبر سے 2026 کا آٹھواں پولیو کیس سامنے آیا ہے۔ 2 سے 8 نومبر تک جاری ملک گیر مہم کا ہدف 97 اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پولیو مہمات یہ طے کرتی ہیں کہ پاکستان کے لاکھوں بچوں کو ویکسین ملتی ہے یا نہیں۔ موجودہ مہم کا ہدف 97 اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچے ہیں۔ خیبر پختونخوا، جہاں اس سال کے نو میں سے سات کیس سامنے آئے، اور سندھ کے خاندان براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ویکسینیشن ٹیموں کا تحفظ اور جنوبی خیبر پختونخوا تک رسائی بھی طے کرتی ہے کہ وہاں کے بچوں تک ویکسین پہنچتی ہے یا نہیں۔



