ابھی ابھی
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

مصر کی پاکستانی کمپنیوں کو امریکی منڈی تک رسائی کے لیے مینوفیکچرنگ کی دعوت

مصر نے پاکستانی کمپنیوں کو اپنے ہاں مینوفیکچرنگ شروع کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ امریکا کے ساتھ مصر کے ترجیحی تجارتی انتظامات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ پیشکش استنبول میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقاتوں میں سامنے آئی۔

مصر کی پاکستانی کمپنیوں کو امریکی منڈی تک رسائی کے لیے مینوفیکچرنگ کی دعوت
تصویر: hoeldino / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • مصر نے پاکستانی کمپنیوں کو وہاں مینوفیکچرنگ کی دعوت دی
  • امریکی منڈی تک رسائی مصر کے ترجیحی تجارتی انتظامات کے ذریعے ہوگی
  • بات چیت استنبول میں کامیسک کے 42ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی
  • جام کمال خان نے سعودی اور تیونسی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں

بزنس ریکارڈر اور پرو پاکستانی کے مطابق مصر نے پاکستانی کمپنیوں کو اپنے ہاں مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ امریکا کے ساتھ مصر کے ترجیحی تجارتی انتظامات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ترکیہ کے شہر استنبول میں کامیسک کے 42ویں اجلاس کے موقع پر مصر کے وزیر سرمایہ کاری و خارجہ تجارت محمد فرید صالح سے ملاقات کی۔

دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر بات کی، جس میں خاص طور پر کپاس اور ٹیکسٹائل کے شعبے زیر بحث آئے۔

محمد فرید صالح نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کار مصر میں مینوفیکچرنگ سہولتیں قائم کر کے امریکی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، تاہم یہ لاگو تجارتی تقاضوں سے مشروط ہوگا۔ انہوں نے آئندہ بزنس فورم میں شرکت کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کی تفصیلات بھی مانگیں۔

انہوں نے پاکستانی طلبہ کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، طب، صحت اور انجینئرنگ میں مصر کے سستے تعلیمی مواقع کا بھی ذکر کیا۔

جام کمال خان نے پاکستان اور مصر کی نجی کمپنیوں کے درمیان، خصوصاً ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ میں، مشترکہ منصوبے بنانے پر زور دیا۔

وزیر تجارت نے دیگر ملاقاتیں بھی کیں۔ سعودی عرب کے ڈپٹی گورنر برائے بین الاقوامی تنظیمات و معاہدات فرید ایس العسلی سے زراعت، صنعتی ترقی، انسانی وسائل کی ترقی، مویشی اور غذائی تحفظ میں تعاون پر بات ہوئی۔ دونوں فریقوں نے تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، اور جام کمال خان نے افریقی منڈیوں میں مواقع تلاش کرنے کے لیے پاکستانی اور سعودی کاروباری اداروں کی شراکت داری تجویز کی۔

انہوں نے تیونس کے وزیر تجارت و برآمدی ترقی سمیر عابد سے بھی ملاقات کی۔ دونوں وزرا نے تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت صلاحیت سے کم ہے اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مربوط کوششوں پر زور دیا۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ جام کمال خان نے استنبول میں کامیسک کے 42ویں اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر تجارت سے ملاقات کی۔ انہوں نے سعودی عرب، مصر اور تیونس کے حکام سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

یہ کیوں اہم ہے

اس پیشکش سے سب سے زیادہ متعلق پاکستانی صنعت کار اور برآمد کنندگان ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل اور کپاس کے شعبے میں۔ مصری وزیر کے مطابق مصر میں پیداوار انہیں مصر کے تجارتی انتظامات کے تحت، لاگو تقاضوں کی شرط پر، امریکی منڈی تک ایک راستہ دے سکتی ہے۔ مجوزہ مشترکہ منصوبوں اور آئندہ بزنس فورم میں دونوں ممالک کی نجی کمپنیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

مصرپاکستانی برآمداتکامیسک

اس خبر پر مزید