ابھی ابھی
دنیا2 ذرائع سے تصدیق شدہ

سعودی اتحاد کا مدینہ کی جانب داغا گیا حوثی میزائل روکنے کا دعویٰ

سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعرات کو بتایا کہ فضائی دفاع نے مدینہ کے علاقے کی جانب حوثیوں کا داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا۔ یہ اعلان ینبع بندرگاہ کے گرد ممکنہ خطرے کی سول ڈیفنس وارننگ کے فوراً بعد سامنے آیا۔

سعودی اتحاد کا مدینہ کی جانب داغا گیا حوثی میزائل روکنے کا دعویٰ
تصویر: artellliii72 / Pixabay
اہم نکات
  • سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق مدینہ کے علاقے کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل جمعرات کو روک لیا گیا۔
  • اس سے کچھ پہلے سول ڈیفنس نے ینبع کے گرد ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی تھی۔
  • یہ واضح نہیں کہ دونوں واقعات کا آپس میں تعلق ہے یا نہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں سے لڑنے والے سعودی قیادت کے اتحاد نے جمعرات کو کہا کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے مدینہ کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل روک لیا۔ مدینہ اسلام کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ اعلان عرب نیوز اور فرانس 24 نے رپورٹ کیا۔

اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا: "فضائی دفاع نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے مدینہ کے علاقے کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ رپورٹوں میں کسی نقصان یا جانی نقصان کی تفصیل نہیں دی گئی۔

فرانس 24 کے مطابق یہ اعلان سعودی سول ڈیفنس ایجنسی کی اس وارننگ کے فوراً بعد آیا جس میں بحیرۂ احمر کی اسٹریٹجک بندرگاہ ینبع کے گرد ممکنہ خطرے کا ذکر تھا۔ ایجنسی نے کہا: "ینبع گورنریٹ میں قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم نے ممکنہ خطرے سے خبردار کرنے کے لیے وارننگ جاری کی ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ فرانس 24 کے مطابق یہ واضح نہیں کہ میزائل روکنے اور وارننگ کا آپس میں تعلق تھا یا نہیں۔

فرانس 24 نے یہ بھی بتایا کہ حوثی بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ مملکت کے خلاف اپنی مہم میں مکہ یا مدینہ کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ اس مہم میں ہوائی اڈوں، توانائی کے ڈھانچے اور فوجی مقامات پر حملے شامل رہے ہیں، جبکہ حوثی حالیہ مہینوں میں ینبع کو بار بار نشانہ بنا چکے ہیں۔

ینبع مشرق مغرب پائپ لائن کا آخری سرا ہے، جس کے ذریعے سعودی تیل آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے بچ کر آگے بھیجا جا سکتا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ بندرگاہ اور پائپ لائن ریاض کو خام تیل اور ایندھن عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

عرب نیوز نے اسے حوثی تحریک اور اتحاد کے درمیان جاری تنازع کا ایک اور واقعہ قرار دیا۔ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حوثیوں نے اتحاد کے بیان پر کیا ردعمل دیا۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 2 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ اتحاد کے مطابق اس کے فضائی دفاع نے جنوبی سعودی عرب کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کیا۔ 3 نومبر کو تعز کے گرد حوثیوں اور یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت کی خبر دی گئی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

خلیجی خطے میں بڑی تعداد میں پاکستانی کارکن رہتے ہیں، اس لیے سعودی شہروں تک میزائل پہنچنا ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے تشویش کی بات ہے۔ مدینہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے گہری مذہبی اہمیت رکھتا ہے، جہاں زائرین بھی جاتے ہیں۔ ینبع کا سعودی خام تیل اور ایندھن عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں کردار پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، جہاں خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر کو پیٹرول 362 روپے اور ڈیزل 387.81 روپے فی لیٹر تھا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سعودی عربحوثیمدینہ

اس خبر پر مزید