ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

کراچی کال سینٹر پر چھاپہ، این سی سی آئی اے نے 273 افراد گرفتار کر لیے

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کراچی کے ایک کال سینٹر سے 42 کم عمر افراد سمیت 273 افراد کو گرفتار کیا، جس پر غیرملکیوں کو دھوکا دینے کا الزام ہے۔ عدالت نے نو مرکزی ملزمان کا دو روزہ ریمانڈ دے دیا۔

کراچی کال سینٹر پر چھاپہ، این سی سی آئی اے نے 273 افراد گرفتار کر لیے
تصویر: MV-Fotos / Pixabay
اہم نکات
  • کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے کال سینٹر سے 100 سے زائد خواتین اور 42 کم عمر افراد سمیت 273 گرفتار
  • ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 3,390 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار سی پی یو ضبط
  • نو مرکزی ملزمان کا دو روزہ ریمانڈ، خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کی ضمانت منظور
273گرفتار افراد
42کم عمر گرفتار افراد
3,390ضبط لیپ ٹاپ (ایکسپریس ٹریبیون)
350کراچی میں اندازاً اسکیم کال سینٹرز

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں مبینہ سائبر فراڈ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں 273 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر کے مطابق گرفتار افراد میں 100 سے زائد خواتین اور 42 کم عمر لڑکے لڑکیاں شامل ہیں۔

چھاپہ شارع فیصل کے ساتھ پی ای سی ایچ ایس میں واقع کال سینٹر پر مارا گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کو عینی شاہدین نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے 3 نومبر کو ووکسٹرون کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ شہزاد اکبر کے مطابق 3,390 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار سی پی یو ضبط کیے گئے۔ ایکسپریس نیوز نے ان ہی سے 339 لیپ ٹاپ کا ذکر کیا، یوں لیپ ٹاپ کی تعداد میں رپورٹس مختلف ہیں۔

شہزاد اکبر کے مطابق فرانزک جانچ میں معلوم ہوا کہ بیرون ملک موجود افراد کمپنی کی فراڈ سرگرمیوں میں ملوث تھے اور تاجر بھی مبینہ طور پر نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ ایک ایک لیپ ٹاپ پر مختلف ناموں کی متعدد یوزر آئی ڈیز لاگ ان ملیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کال سینٹرز شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کر کے فراڈ میں استعمال کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ لیپ ٹاپس میں جعلی آن لائن آئی ڈیز اور کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کی مالی معلومات ملیں۔ ملزمان مبینہ طور پر پیشکشوں اور دھوکے سے کارڈ کی تفصیلات حاصل کر کے اکاؤنٹس سے رقم نکالتے تھے۔ ان کے مطابق منی لانڈرنگ، ہنڈی اور مرچنٹ نیٹ ورکس کے شواہد ملے، ریٹائرڈ افراد کو بھی مبینہ طور پر لوٹا گیا اور فراڈ کی رقم جاز کیش کے ذریعے منتقل ہوئی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ کراچی میں اندازاً 350 کال سینٹرز اسکیمنگ میں ملوث ہیں اور یہ کمپنی ان میں سرفہرست تین میں شامل تھی۔ ان کے مطابق پہلی بار مالک کے ساتھ ملازمین کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ پہلے صرف مالکان پر مقدمہ بنتا تھا اور رشتہ دار انہی ملازمین کے ساتھ نئی کمپنی رجسٹر کرا لیتے تھے۔ انہوں نے والدین کو خبردار کیا کہ بچوں کو غیرقانونی سرگرمیوں سے نہ روکنے پر دفعہ 109 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلراز میمن کے سامنے پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق 273 ملزمان کو کال سینٹر کی عمارت میں رکھا گیا، جسے محکمہ داخلہ سندھ نے سب جیل قرار دیا۔ ان پر غیرملکیوں کو دھوکا دینے کا الزام ہے۔ عدالت نے نو مرکزی ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا۔

ملزمان کے وکیل نے کہا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد کم عمر اور 80 سے زائد خواتین ہیں اور جرائم قابل ضمانت ہیں۔ عدالت نے خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو 5,000 روپے کے مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ باقی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گرفتار افراد کے رشتہ داروں نے بتایا کہ اہل خانہ کو ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی گئی۔ ایک رشتہ دار کے مطابق کمپنی پر پہلے دو بار چھاپے پڑ چکے تھے مگر مالک کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایک اور رشتہ دار نے الزام لگایا کہ حکام کو معلوم تھا کہ 12 سال تک کے بچے وہاں کام کرتے ہیں۔ ایک ماں نے کہا کہ 3 نومبر سے اس کا اپنی بیٹی سے رابطہ نہیں ہوا۔

یہ کیوں اہم ہے

غیرملکیوں کو نشانہ بنانے والے اسکیم کال سینٹرز پاکستان کی ساکھ اور بڑھتی ہوئی آئی ٹی برآمدات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ کیس گرفتار افراد کے اہل خانہ، بشمول کم عمر اور خواتین، اور ایسے مراکز میں کام کرنے والے کارکنوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کریڈٹ کارڈ ہولڈرز اور ریٹائرڈ افراد بھی متاثرین میں شامل تھے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

این سی سی آئی اےکراچیسائبر فراڈ

اس خبر پر مزید