ابھی ابھی
صحت2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ڈریپ کا فارمولا دودھ کے ڈبوں پر ماں کے دودھ کی تنبیہ لازمی قرار

ڈریپ نے فارمولا دودھ بنانے اور درآمد کرنے والوں کو پیکنگ پر دودھ پلانے سے متعلق پیغام چھاپنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پیغام اردو اور انگریزی دونوں میں ہونا لازمی ہے۔

ڈریپ کا فارمولا دودھ کے ڈبوں پر ماں کے دودھ کی تنبیہ لازمی قرار
تصویر: 국립국어원 / Wikimedia Commons, CC BY-SA 2.0 kr

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اہم نکات
  • ڈریپ کے مطابق فارمولا دودھ کی تمام پیکنگ اور لیبل پر پیغام اردو اور انگریزی میں ہوگا۔
  • حکم مقامی اور درآمدی مصنوعات پر لاگو ہے، جن میں ایک سے تین سال کے بچوں کا فارمولا بھی شامل ہے۔
  • یہ فیصلہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ہدایات کے بعد کیا گیا۔
26.3 فیصدپانچ سال سے کم عمر جن بچوں نے فارمولا دودھ استعمال کیا (سروے)
48 فیصددو سال سے کم عمر بوتل سے دودھ پینے والے بچے (سروے، دیگر مائعات سمیت)
1 سے 3 سالہدایت میں شامل عمر کا گروپ

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے فارمولا دودھ بنانے اور درآمد کرنے والوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات پر ماں کا دودھ پلانے کی ترغیب دینے والا پیغام چھاپیں۔ ٹیک جوس اور ڈیلی پاکستان کے مطابق ڈریپ نے متعلقہ کمپنیوں کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔

اس تنبیہ میں کہا گیا ہے کہ ماں کا دودھ بچوں کے لیے بہترین ہے۔ یہ پیغام مصنوعات کے کارٹن، ڈبوں، لیبل اور دیگر پیکنگ مواد پر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہونا چاہیے۔ ڈریپ کے سرکاری مراسلے کے مطابق بیان ہر متعلقہ مصنوعات کے معلوماتی حصے میں درج کرنا ہوگا۔

ٹیک جوس کے مطابق مینوفیکچررز کو معلوماتی پینل پر ماں کے دودھ کے فوائد اور اہمیت سے متعلق معلومات بھی شامل کرنا ہوں گی۔ ہدایت میں ایک سے تین سال کے بچوں کا فارمولا بھی شامل ہے اور یہ مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ، دونوں مصنوعات پر لاگو ہے۔ ڈریپ نے تمام مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو فوری تعمیل کی ہدایت کی ہے۔

ان تقاضوں کا مقصد ماں کے دودھ کے صحت اور غذائیت سے متعلق فوائد کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔ دونوں اداروں کے مطابق یہ اقدام سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ہدایات کے بعد کیا گیا، جس نے فارمولا دودھ کی پیکنگ پر ماں کے دودھ کے فوائد کا بیان درج کرنے کا کہا تھا۔

پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا کہ "کوئی فارمولا ماں کے دودھ کی جگہ نہیں لے سکتا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ ٹیک جوس کے مطابق انہوں نے پاکستان میں شیر خوار بچوں کی بلند شرحِ اموات کی وجہ مناسب غذائیت اور دیکھ بھال کی کمی قرار دی۔

ڈاکٹر شفیع نے کہا کہ نوزائیدہ بچے اکثر ضروری حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے وہ اسہال اور نمونیا جیسی بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ نوزائیدہ کو پیدائش کے پہلے گھنٹے میں ماں کا دودھ دیا جائے اور پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ پلایا جائے۔

ڈیلی پاکستان نے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے پر مبنی ایک مطالعے کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً 26.3 فیصد بچوں نے فارمولا دودھ استعمال کیا تھا۔ اسی سروے میں 48 فیصد دو سال سے کم عمر بچے بوتل سے دودھ پیتے پائے گئے، تاہم اس میں فارمولا دودھ کے علاوہ دیگر مائعات بھی شامل تھے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں فارمولا دودھ خریدنے والے والدین کو اب ڈبوں پر یہ تنبیہ اردو اور انگریزی میں نظر آئے گی۔ ڈیلی پاکستان کے حوالے سے سروے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً 26.3 فیصد بچوں نے فارمولا دودھ استعمال کیا، اس لیے کئی گھرانے یہ پیغام دیکھیں گے۔ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو تعمیل کے لیے اپنے لیبل تبدیل کرنا ہوں گے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ڈریپفارمولا دودھماں کا دودھ

اس خبر پر مزید