ابھی ابھی
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

وزیر خزانہ اور ماسٹر کارڈ کی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالی شمولیت پر بات چیت

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ماسٹر کارڈ کے وفد سے ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور سائبر سکیورٹی پر بات کی۔ الگ ملاقات میں انہوں نے برآمد کنندگان، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو مالی سہولت بہتر بنانے کا وعدہ کیا۔

وزیر خزانہ اور ماسٹر کارڈ کی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالی شمولیت پر بات چیت
تصویر: JESHOOTS-com / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • اورنگزیب نے ماسٹر کارڈ کے ایسٹ عریبیہ ڈویژن کے صدر مارک ایلیٹ سے ملاقات کی۔
  • بات چیت کیش لیس معیشت کے اقدام کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور سائبر سکیورٹی پر ہوئی۔
  • اورنگزیب نے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو بتایا کہ حکومت مالی سہولت بہتر بنائے گی۔
  • پیوارا کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے جمعرات کو ایلیٹ سے ترسیلات زر اور سرحد پار ادائیگیوں پر بات کی۔
40 ارب ڈالر سے زیادہسالانہ ترسیلات زر، بلال بن ثاقب کے مطابق

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ماسٹر کارڈ کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت ایسٹ عریبیہ ڈویژن کے صدر مارک ایلیٹ کر رہے تھے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور سائبر سکیورٹی میں تعاون پر بات ہوئی۔ بزنس ریکارڈر اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ بات چیت وزیر اعظم کے کیش لیس معیشت کے اقدام کے مطابق تھی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی حل زراعت، چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور دیگر محروم طبقات کی معاونت کریں گے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے پاکستان کے مالیاتی شعبے کے ساتھ ماسٹر کارڈ کی دیرینہ وابستگی کو سراہا۔

مارک ایلیٹ نے پاکستان سے ماسٹر کارڈ کی طویل مدتی وابستگی کا اعادہ کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے ادائیگیوں کی قبولیت، مالی شمولیت، ترسیلات زر اور سائبر سکیورٹی میں تعاون کا ذکر کیا۔

ایک الگ ملاقات میں اورنگزیب نے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت چیئرمین ریحان نسیم بھرارا کر رہے تھے۔ اس میں شعبے کی کارکردگی، برآمدی مسابقت اور کاروباری ماحول پر بات ہوئی، جس میں توانائی کی لاگت اور مالی سہولت تک رسائی بھی شامل تھی۔

اورنگزیب نے کہا: "حکومت کاروباری اداروں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے مالی سہولت تک رسائی بہتر بنائے گی تاکہ برآمدی ویلیو چین میں ان کا کردار مضبوط ہو" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے کاروباری طبقے پر زور دیا کہ وہ جدت، پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نئی معیشت کے مطابق خود کو ڈھالے۔ انہوں نے برآمدات پر مبنی ترقی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

وفد میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خرم مختار، عارف احسان ملک، ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ضیا علمدار اور ریڈی میڈ گارمنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل افضل بھی شامل تھے۔

24 نیوز کے مطابق جمعرات کو پاکستان ورچوئل اسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے بھی مارک ایلیٹ سے ملاقات کی۔ سرحد پار ادائیگیوں، ترسیلات زر، ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچے، بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور فری لانسرز و کاروبار کے مواقع پر بات ہوئی۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو سالانہ 40 ارب ڈالر سے زیادہ ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی ترقی میں سائبر سکیورٹی اور صارفین کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھنے چاہئیں۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کے مطابق مالی شمولیت 71 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور صنفی فرق کم ہو کر 27 فیصد رہ گیا ہے۔ 5 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ بینک آف پنجاب نے ماسٹر کارڈ کے اشتراک سے پاکستان کے پہلے ماسٹر کارڈ ورلڈ ایلیٹ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ متعارف کرائے۔

یہ کیوں اہم ہے

ڈیجیٹل ادائیگی کے وسیع تر طریقے عام پاکستانیوں کے لیے بینکاری آسان بنا سکتے ہیں، بشمول کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کے جنہیں وزیر خزانہ نے محروم طبقات میں شمار کیا۔ برآمد کنندگان، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے کاروبار، مالی سہولت کے وعدے سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ توانائی کی لاگت اور قرض تک رسائی بھی زیر بحث آئی۔ ترسیلات زر پر انحصار کرنے والے گھرانے سرحد پار ادائیگیوں کی بہتری کی کوششوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، جن کا حجم پیوارا کے چیئرمین کے مطابق سالانہ 40 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ماسٹر کارڈڈیجیٹل ادائیگیاںاورنگزیب

اس خبر پر مزید