ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

جنوبی کوریا آبنائے ہرمز کے قریب گشتی طیارے اور بم ڈسپوزل ٹیم بھیجے گا

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایک ڈیسٹرائر، گشتی طیارہ اور بم ناکارہ بنانے والی ٹیم بھیجی جائے گی۔ سیول کا کہنا ہے کہ مشن غیر جنگی ہے۔

جنوبی کوریا آبنائے ہرمز کے قریب گشتی طیارے اور بم ڈسپوزل ٹیم بھیجے گا
تصویر: Bergadder / Pixabay
اہم نکات
  • جنوبی کوریا آبنائے ہرمز کے قریب ڈیسٹرائر، پی-8 گشتی طیارہ اور بم ڈسپوزل ٹیم بھیجے گا۔
  • سیول کے مطابق مشن غیر جنگی ہے اور وہ امریکا ایران جنگ میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔
  • چونگھے یونٹ کی تعیناتی میں توسیع کے لیے پارلیمان کی منظوری درکار ہے۔
  • تہران نے جنوبی کوریا کو اس تعیناتی کے خلاف خبردار کیا ہے۔
تقریباً پانچواں حصہدنیا کے تیل کا عام طور پر گزرنے والا حصہ
28 فروریجنگ کا آغاز
2026 کے آخر میںچونگھے یونٹ کی موجودہ منظوری ختم

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے جمعرات کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب پانیوں میں گشتی طیارے اور بارودی مواد ناکارہ بنانے والی ٹیم بھیجی جائے گی۔ سیول کے مطابق مقصد اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے اور تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کا تحفظ ہے۔

فرانس 24 کے مطابق تعیناتی میں ایک ڈیسٹرائر، پی-8 گشتی طیارہ، بم ڈسپوزل ٹیم، بغیر پائلٹ سطحی کشتیاں، بغیر پائلٹ زیر آب گاڑیاں اور ریموٹ سے چلنے والی زیر آب گاڑیاں شامل ہوں گی۔

اس منصوبے کے تحت قزاقی کے خلاف کام کرنے والے چونگھے بحری یونٹ کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، جو اس وقت صومالیہ کے قریب خلیج عدن میں جہازوں کی حفاظت کرتا ہے۔ عرب نیوز نے وزارت کے ترجمان کے حوالے سے، اور یونہاپ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے، بتایا کہ حکومت یونٹ کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی بڑھانے کی تحریک پارلیمان میں پیش کرے گی، جو 2026 کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ یونہاپ کے مطابق توسیع کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے۔

عرب نیوز کے مطابق یہ اقدام ایران جنگ میں مدد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد سامنے آیا۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ کمک صرف غیر جنگی مقاصد کے لیے ہے اور یونٹ اتحادی افواج سے آزادانہ طور پر کام کرے گا۔ کارروائیاں عمان کے جنوب میں کھلے پانیوں تک محدود ہوں گی، اور گشتی طیاروں کو ایرانی علاقے یا آبنائے کے اندرونی حصے کو نشانہ بنانے یا اس کی نگرانی کی اجازت نہیں ہوگی۔

جنوبی کوریا نے امریکا ایران جنگ میں فوجی مداخلت خارج از امکان قرار دیا ہے، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ صدر لی جے میونگ نے کہا: "ہم اب تک جنگ میں عدم شمولیت اور عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔

آبنائے ہرمز سے عام طور پر دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے، اور جنگ کے باعث یہاں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔ تہران نے جنوبی کوریا کو اس تعیناتی کے خلاف خبردار کیا ہے۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 2 نومبر کو رپورٹ کیا کہ ایران کے مطابق قطری ثالثوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کھولنے کا دو روزہ منصوبہ موجود ہے، جس کا انحصار امریکا کی جانب سے ایرانی شرائط پوری کرنے پر ہے۔ 4 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ ایران نے اپنی سات شرائط پر امریکی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان جو ایندھن اور جہاز رانی کے اخراجات ادا کرتا ہے وہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ سے متاثر ہوتے ہیں۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر کو پیٹرول 362 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 387.81 روپے فی لیٹر تھا۔ اس آبی گزرگاہ سے جہاز رانی میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان کے گھرانوں اور کاروباروں کو درپیش توانائی اور مال برداری کے اخراجات پر اثر ڈالتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آبنائے ہرمزجنوبی کوریاامریکا ایران جنگ

اس خبر پر مزید