ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ٹرمپ کا اعتراف: ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات پر اثر ڈالا، ڈیموکریٹس کامیاب

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مانا ہے کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھنے والی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن شکست پر اثر ڈالا۔ ڈیموکریٹس نے منگل کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیت لیے۔

ٹرمپ کا اعتراف: ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات پر اثر ڈالا، ڈیموکریٹس کامیاب
تصویر: jensjunge / Pixabay
اہم نکات
  • ٹرمپ نے کہا جنگ کا اثر پڑا، مگر وہ دوبارہ یہی فیصلہ کریں گے۔
  • ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
  • نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا شکست کی وجہ جنگ ہے۔
  • ایرانی قیادت کو امریکی پالیسی بدلنے کی توقع نہیں۔
8 ماہ سے زائدتنازع کی مدت
47 ارب ڈالرامریکی ٹیکس دہندگان پر اندازاً لاگت
300 ارب ڈالرجون کی مفاہمتی یادداشت میں مجوزہ فنڈ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست میں ایران جنگ کا کردار رہا۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا تجزیہ بڑی حد تک درست ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو کے مطابق انہوں نے کہا: "میرے خیال میں یہ بات بڑی حد تک درست ہے کیونکہ اس جنگ کے باعث مختصر مدت کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا۔" (انگریزی سے ترجمہ نہیں، اردو میں نقل شدہ)۔ فرانس 24 کے مطابق آٹھ ماہ سے زائد پرانے اس تنازع کے دوران پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے ووٹر ناخوش تھے۔

ٹرمپ نے جنگ کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ یہی کریں گے، اور وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری تھا۔ انہوں نے جنگ کی نگرانی کرنے والے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہٹانے کا امکان بھی مسترد کر دیا۔

2028 کے ممکنہ صدارتی امیدوار سمجھے جانے والے جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم اس لیے ہارے کہ جنگ ہے اور صدر نے خود گزشتہ رات یہ کہا۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جنگ سیاسی قیمت کے قابل تھی۔ انہوں نے ایک نامعلوم سروے کار کا حوالہ دیا، جس کے مطابق 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے جو لوگ اس بار ڈیموکریٹس کو ووٹ دینا چاہتے تھے، ان کے بڑے جوابات میں جنگ ختم کرنا شامل تھا۔

سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا کہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ہونی چاہیے تھی مگر بہت طویل ہو گئی۔ الجزیرہ کے مطابق ایران پر امریکی حملے سے آبنائے ہرمز بند ہوئی اور عالمی ایندھن بحران پیدا ہوا، جس پر امریکی ٹیکس دہندگان کو اب تک اندازاً 47 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے۔

ڈیموکریٹس کانگریس کے ذریعے جنگ محدود کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے کہا کہ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ رکن کانگریس رو کھنہ نے ایران میں امریکی جنگی سرگرمیوں کی مالی معاونت پر پابندی کی قرارداد پیش کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپوزیشن سے تعاون کو تیار ہیں، مگر مواخذے کی کارروائی کے خلاف خبردار کیا اور کہا اس کی کوئی وجہ نہیں۔

ایران کے چیف مذاکرات کار اور اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی ووٹروں نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا، اور خبردار کیا کہ واشنگٹن نے عوام کی خواہش نظر انداز کی تو ایرانی جوابی کارروائی ہو گی۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ انہیں امریکی پالیسی بدلنے کی توقع نہیں، اور نئی جنگ کے نتائج کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا کہ الجزیرہ کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔ 5 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکا میں جماعتی تبدیلی سے دشمنی ختم نہیں ہو گی، جبکہ ڈیموکریٹس نے مہنگائی اور محصولات پر توجہ اور ٹرمپ کی تحقیقات کا ارادہ ظاہر کیا۔

یہ کیوں اہم ہے

ایران تنازع خلیج کی سلامتی اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالتا ہے، جو پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر کو پیٹرول 362 روپے فی لٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 387.81 روپے فی لٹر تھا۔ رپورٹس آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی ایندھن بحران سے جوڑتی ہیں، اس لیے جنگ کے جاری رہنے یا ختم ہونے کے امریکی فیصلے کا تعلق ان ایندھن اخراجات سے ہے جو پاکستانی گھرانوں اور کاروبار کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایران جنگامریکی وسط مدتی انتخاباتڈونلڈ ٹرمپ

اس خبر پر مزید