ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایران کا امریکی وسط مدتی نتائج پر ردعمل، خامنہ ای کا دشمنی جاری رہنے کا انتباہ

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی پالیسی میں جماعتی تبدیلیوں سے تبدیلی کی امید سنگین غلطی ہے۔ ایرانی حکام نے ڈیموکریٹس کی کامیابی کا خیرمقدم کیا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے بڑے حملے کے امکان کو رد نہیں کیا۔

ایران کا امریکی وسط مدتی نتائج پر ردعمل، خامنہ ای کا دشمنی جاری رہنے کا انتباہ
تصویر: Telluride / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ واشنگٹن میں دھڑوں کی تبدیلی سے امریکی دشمنی ختم نہیں ہوگی۔
  • ایرانی حکام نے ریپبلکنز کی شکست کو ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ سے جوڑا۔
  • ٹرمپ نے بڑے حملے کو مسترد نہیں کیا مگر کہا کہ شاید اس کی ضرورت نہ پڑے۔
1979 میں امریکی سفارت خانے پر قبضہسالگرہ
فروریجنگ کا آغاز

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ جماعتی یا دھڑوں کی تبدیلی سے امریکی پالیسی بدل جائے گی، یا رعایتوں سے امریکی دشمنی کم ہوگی، وہ سنگین غلطی پر ہیں۔ ان کا تحریری بیان امریکی وسط مدتی انتخابات کے چند گھنٹے بعد ان کی ویب سائٹ پر شائع ہوا، جن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔

مجتبیٰ خامنہ ای فروری میں اپنے دفتر پر امریکی و اسرائیلی حملے میں والد اور پیشرو علی خامنہ ای کے قتل کے بعد سے عوام کے سامنے نہیں آئے۔ یہ بیان 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی سالگرہ کے موقع پر جاری ہوا۔

خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے امریکی ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کو کمزور کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر دوبارہ کسی امریکی حملے کا کہیں وسیع جواب دیا جائے گا۔

دیگر ایرانی حکام نے نتائج کا خیرمقدم کیا۔ واشنگٹن سے مذاکرات میں ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا: "ضمیر ہو یا مہنگائی، امریکیوں نے جنگ کو NO کہا ہے اور ہم اس پیغام کی تائید کرتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ پارلیمنٹ کے پہلے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے ریپبلکنز کی شکست کو واشنگٹن کی ایران کے ساتھ جنگ سے جوڑا اور ارکان سے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکی کوششیں ناکام رہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ سے ریپبلکنز کو نقصان پہنچا ہوگا، تاہم کہا کہ ووٹرز پیٹرول کی قیمتوں پر ردعمل دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا: "میرے خیال میں یہ پیٹرول کی قیمتیں ہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے ایران پر بڑے نئے حملے کو رد نہیں کیا اور کہا کہ کچھ لوگ "بھاری ضرب" کے لیے زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کارروائی کے لیے تیار ہے مگر شاید اس کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ مذاکراتی حل کی امید باقی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکا نے خبردار کیا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی مہم چلا سکتا ہے۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ٹریٹا پارسی نے کہا کہ ڈیموکریٹک فتح کے بعد ٹرمپ حملے بڑھا سکتے ہیں اور جنوری میں ڈیموکریٹس کے کانگریس سنبھالنے سے پہلے کا عرصہ خاص طور پر غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف کے مشیر حمیدرضا مقدم فر نے بندر عباس میں ایک ریلی میں کہا کہ اگر خلیجی ریاستوں نے اپنی سرزمین سے امریکی حملوں کی اجازت دی تو ایران امریکی اڈوں سے آگے بھی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے نام لیے۔

پس منظر

خبر.پی کے نے 2 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے بالواسطہ رابطے میں ہے۔ 4 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کا نام ایران اور امریکا کے بالواسطہ رابطوں میں ثالث کے طور پر لیا گیا ہے، اس لیے دونوں فریقوں کے مؤقف میں تبدیلی اس کے سفارتی کردار پر اثر ڈالتی ہے۔ خلیجی ریاستوں سے متعلق ایرانی انتباہ اس خطے کے لیے تشویش بڑھاتا ہے جس پر پاکستان کی گہری نظر ہے۔ ایندھن کی قیمتیں بھی اس بحث کا حصہ ہیں: خبر.پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر کو پیٹرول 362 روپے فی لیٹر تھا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانامریکی وسط مدتی انتخاباتخلیج

اس خبر پر مزید