ابھی ابھی
ٹیکنالوجی3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان میں اسمارٹ فون اقساط کا فریم ورک تاحال طے نہیں

جاز، پی ٹی سی ایل/یوفون، ٹیلی نار اور زونگ نے 7 مئی 2026 کو پی ٹی اے سے اسمارٹ فون فنانسنگ اور اقساط کی عدم ادائیگی کے لیے قواعد مانگے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق فریم ورک ابھی حتمی نہیں ہوا۔

Photo: hands, phone, smartphone, electronics
Photo: hands, phone, smartphone, electronics تصویر: Pexels / Pixabay
اہم نکات
  • چار بڑے آپریٹرز نے 7 مئی 2026 کو پی ٹی اے کو مشترکہ خط لکھا۔
  • وہ فنانسنگ اور نادہندگی سے نمٹنے کے قواعد چاہتے ہیں۔
  • صنعتی ذرائع کے مطابق فریم ورک حتمی نہیں۔
  • اسٹیٹ بینک نے 30 اکتوبر 2026 کو اوپن بینکنگ کے مسودہ ضوابط جاری کیے۔
7 مئی 2026پی ٹی اے کو مشترکہ خط
50 فیصد10 سال یا زائد عمر کے موبائل مالکان
30 فیصد2024 میں موبائل انٹرنیٹ صارفین (جی ایس ایم اے)
30 اکتوبر 2026اوپن بینکنگ مسودہ ضوابط کا اجرا

اقساط پر اسمارٹ فون کی فراہمی سے موبائل فون کی ملکیت بڑھانے کا منصوبہ تاحال ضابطے اور کریڈٹ جانچ کی رکاوٹوں کا شکار ہے۔ فون ورلڈ اور ٹیک جوس کے مطابق صنعتی ذرائع کہتے ہیں کہ موبائل آپریٹرز کی تجویز کردہ فریم ورک ابھی حتمی نہیں ہوا۔

جاز، پی ٹی سی ایل/یوفون، ٹیلی نار اور زونگ نے 7 مئی 2026 کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو مشترکہ خط دیا۔ انہوں نے اسمارٹ فون فنانسنگ کی معاونت اور اقساط کی عدم ادائیگی سے نمٹنے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مانگا۔

آپریٹرز نے مرحلہ وار وصولی کی تجویز دی ہے۔ اس میں پہلے ادائیگی کی یاد دہانیاں، پیشگی اطلاعات، تنازعات کا حل اور دیگر اقدامات شامل ہوں گے۔ مسلسل نادہندگی کی صورت میں آخری حل کے طور پر سم بند کی جا سکے گی، مگر صارف کی رضامندی اور تحفظِ صارف کے ضمانتی اقدامات کے ساتھ۔ ٹیک جوس کے مطابق آپریٹرز نے یہ بھی کہا کہ بقایا رقم ادا ہوتے ہی سروس فوراً بحال کی جائے۔

کریڈٹ جانچ بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے ممکنہ خریداروں کے پاس دستاویزی تنخواہ، باقاعدہ کریڈٹ ہسٹری یا وہ مالی ریکارڈ نہیں جو بینک اور فنانسنگ کمپنیاں مانگتی ہیں۔ فون ورلڈ کے مطابق قسط بازار اور ٹیک جوس کے مطابق قسط پے پہلے ہی اقساط پر اسمارٹ فون دیتے ہیں، جن میں ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ انتظامات بھی شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 30 اکتوبر 2026 کو اوپن بینکنگ کے مسودہ ضوابط عوامی مشاورت کے لیے جاری کیے۔ ان میں صارف کی رضامندی سے مالی ڈیٹا کے محفوظ تبادلے کا فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔ نافذ ہونے پر مجاز فنانسنگ فراہم کنندگان تصدیق شدہ مالی لین دین کی تاریخ سے صارفین کو جانچ سکیں گے۔ یہ مسودہ ابھی حتمی نہیں۔

رپورٹس میں ملکیت اور کوریج کے اعداد بھی دیے گئے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 50 فیصد افراد کے پاس موبائل فون تھا، یعنی مردوں میں تقریباً 70 اور خواتین میں 30 فیصد۔ اگست 2025 کی جی ایس ایم اے رپورٹ کے مطابق موبائل براڈ بینڈ تقریباً 80 فیصد آبادی تک پہنچتا ہے، جبکہ 2024 میں صرف 30 فیصد نے موبائل انٹرنیٹ استعمال کیا۔

لاگت بھی ایک عنصر ہے۔ فون ورلڈ کے مطابق درآمدات پر انحصار، ڈیوٹیاں اور ٹیکس فون کی ابتدائی قیمت بڑھاتے ہیں، اور ٹیکس کی شرحیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دائرۂ اختیار میں ہیں، پی ٹی اے کے نہیں۔ ٹیک جوس کے مطابق خاص طور پر سستے فونز پر ڈیوٹی اور ٹیکس کا جائزہ صارفین کے قرض کی رقم کم کر سکتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

اقساط پر فون کی سہولت سے بہت سے پاکستانیوں کے اسمارٹ فون خریدنے کا طریقہ بدل سکتا ہے، اس لیے نادہندگی، سم بندش اور اہلیت کے قواعد خریداروں پر اثر ڈالیں گے۔ کئی خریداروں کے پاس قرض دہندگان کو درکار دستاویزی آمدن یا کریڈٹ ہسٹری نہیں ہوتی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسمارٹ فونپی ٹی اےٹیلی کام

اس خبر پر مزید