اس ہفتے ٹیکنالوجی اور اے آئی: سکیورٹی، رسائی اور قواعد
خبر.پی کے کی اس ہفتے کی ٹیکنالوجی خبریں تین موضوعات میں بٹتی ہیں: ڈیجیٹل سکیورٹی، انٹرنیٹ اور فون کی قیمت تک رسائی، اور اے آئی کے قواعد۔ ہر موضوع کا تعلق پاکستان کے عوام اور کاروبار سے ہے۔

- سکیورٹی کی خبروں میں 6.3 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری سے ٹیم ویوور کی خامی تک شامل تھیں۔
- پاکستان میں یوٹیوب کا استعمال بہت زیادہ ہے، مگر فون اقساط کے قواعد طے نہیں ہوئے۔
- بڑی اے آئی کمپنیوں نے اے آئی ٹریننگ سے انکار کے مشترکہ اشارے کی حمایت کی۔
اس ہفتے کی ٹیکنالوجی خبروں کو تین حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے: سکیورٹی، رسائی اور لاگت، اور اے آئی کے گرد قواعد۔ ہر حصے کا تعلق پاکستان کے قارئین سے ہے، چاہے وہ موبائل پر ویڈیو دیکھنے والے گھرانے ہوں یا ریموٹ سافٹ ویئر پر انحصار کرنے والے کاروبار۔
پہلا موضوع سکیورٹی ہے۔ خبر.پی کے نے 30 اکتوبر کو بتایا کہ بائنانس کے مطابق اس کے پلیٹ فارم سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے چوری ہوئے، جو اب تک کی سب سے بڑی معلوم چوری ہے۔ بائنانس کا کہنا ہے کہ صارفین کی رقم محفوظ ہے اور وہ تمام نقصان پورا کرے گا۔ 3 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ شمالی کوریا نے اس ہیک سے متعلق امریکی الزامات کی تردید کی۔ ایلپٹک کے مطابق تقریباً 2.85 ارب ڈالر منجمد یا ضبط کیے جا چکے ہیں، جبکہ بائنانس کے مطابق وہ متاثرہ رقم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر چکا ہے۔
اپنے ملک میں، خبر.پی کے نے 29 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ پی ٹی اے نے ایک سال میں ڈارک ویب کی نگرانی کے ذریعے 326 اہم سائبر خطرے کے اشارے پکڑے۔ ان میں 174 ویب سائٹ ڈیفیسمنٹ، 87 ڈیٹا لیک اور 41 ڈی ڈوس خطرات شامل ہیں۔ 2 نومبر کو نیشنل سرٹ نے ٹیم ویوور صارفین سے کہا کہ ایک خامی کے باعث، جس کا سی وی ایس ایس اسکور 8.8 ہے، وہ ورژن 15.83 یا اس کے بعد کا ورژن انسٹال کریں۔ ان خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرات بڑی چوریوں سے لے کر ویب سائٹ بگاڑنے اور پرانے سافٹ ویئر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
دوسرا موضوع رسائی اور لاگت ہے۔ 3 نومبر کو خبر.پی کے نے بتایا کہ پی ٹی اے کے چیئرمین نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا کہ 9 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی یوٹیوب استعمال کرتے ہیں اور ملک میں روزانہ 56 کروڑ ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ ایک وزیر کے مطابق 24 شہروں میں 18 لاکھ افراد فائیو جی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف 4 نومبر کو رپورٹ ہوا کہ اسمارٹ فون اقساط کا فریم ورک ابھی طے نہیں ہوا۔ جاز، پی ٹی سی ایل/یوفون، ٹیلی نار اور زونگ نے 7 مئی 2026 کو پی ٹی اے کو خط لکھ کر فنانسنگ اور ادائیگی میں نادہندگی کے قواعد مانگے تھے، اور صنعتی ذرائع کے مطابق کچھ حتمی نہیں۔ اسٹیٹ بینک نے 30 اکتوبر 2026 کو اوپن بینکنگ ریگولیشنز کا مسودہ جاری کیا۔ 5 نومبر کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسپاٹیفائی نے پاکستان میں آڈیو بکس پلس 489 روپے ماہانہ پر شروع کیا، جس میں 15 گھنٹے سننے کی سہولت ہے۔
تیسرا موضوع اے آئی کے قواعد ہیں۔ 31 اکتوبر کو خبر.پی کے نے رپورٹ کیا کہ اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ اور اینتھروپک ایک مشترکہ روبوٹس ڈاٹ ٹی ایکس ٹی اشارے کی حمایت کر رہے ہیں، جس سے ویب سائٹس اے آئی ٹریننگ کے بارے میں اپنی ترجیح بتا سکتی ہیں۔ اینتھروپک اسے اپنا چکی ہے، گوگل اور مائیکروسافٹ اگلے سال اس کی حمایت کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اوپن اے آئی کے مطابق وہ آنے والے مہینوں میں اسے نافذ کرے گی۔ 4 نومبر کو گوگل کے اسکول ٹولز پر تنقید ہوئی، جن میں سرچ بطور ڈیفالٹ بند ہوگی اور اسکول اسے دوبارہ آن کر سکتے ہیں۔ 29 اکتوبر کو مسٹرال نے اپنے لارج 4 ماڈل کے ویٹس جاری کیے، جو ہگنگ فیس سے ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں۔
ایپل کا فولڈ ایبل آئی فون ڈو، جس کا ذکر 3 نومبر کی خبر میں تھا، لاگت کے موضوع سے جڑتا ہے۔ یہ 1,999 ڈالر میں آیا، پری آرڈر جلد ختم ہو گئے، اور ایپل نہیں بتا سکتا کہ سپلائی طلب کے برابر کب ہوگی۔
کئی سوال ابھی کھلے ہیں۔ فون اقساط کا فریم ورک طے نہیں ہوا۔ اے آئی سے انکار کے اشارے کا انحصار کمپنیوں کے عمل پر ہے۔ بائنانس کا معاملہ جاری ہے اور رقوم کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں کاروبار اور افراد ریموٹ ٹولز اور آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں، اس لیے ٹیم ویوور کی وارننگ اور پی ٹی اے کے اعداد و شمار ان پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ فون خریدنے والے گھرانے اسمارٹ فون اقساط کے غیر طے شدہ قواعد سے متاثر ہوتے ہیں۔ آن لائن ویڈیو کا زیادہ استعمال ظاہر کرتا ہے کہ کتنے لوگ موبائل نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔ ویب سائٹ مالکان کو مشترکہ اشارے سے اے آئی ٹریننگ کے بارے میں اپنی ترجیح بتانے کا موقع ملتا ہے۔



