ایرانی سکیورٹی چیف کی پوٹن سے ملاقات، خامنہ ای کا پیغام پہنچا دیا
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو ماسکو میں ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی سے ملاقات کی۔ رضائی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام پہنچایا، جس کا متن انہوں نے نہیں بتایا۔

- پوٹن نے جمعرات کو محسن رضائی سے ملاقات کی اور مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام وصول کیا۔
- رضائی کے مطابق جب تک امریکا سات شرائط پوری نہیں کرتا، ایران مذاکرات کرے گا نہ آبنائے ہرمز کھولے گا۔
- بات چیت میں روس سے ایران گیس پائپ لائن بھی زیر بحث آئی۔
- ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔
کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے ملاقات کی۔ الجزیرہ کے مطابق بات چیت ماسکو میں ہوئی اور اس کا محور علاقائی سلامتی تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق رضائی نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پیغام میں کیا ہے۔ ان کے بقول خامنہ ای چاہتے تھے کہ یہ پیغام جلد از جلد پوٹن تک پہنچے، اور دورہ تقریباً ایک ماہ پہلے طے تھا مگر خطے کی فوجی صورتحال پر روزانہ مشاورت کے باعث ملتوی ہوا۔
عرب نیوز کے مطابق ملاقات میں کریملن کے خارجہ امور کے مشیر یوری اوشاکوف اور روسی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ ایگور کوستیوکوف بھی پوٹن کے ساتھ موجود تھے۔ تاس کے مطابق کریملن نے فوری طور پر اپنی روداد جاری نہیں کی۔
رضائی نے کہا کہ جنگ کے بعد کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے انتظامات سمیت اہم امور پر بات ہوئی۔ ان کے مطابق پوٹن نے دہرایا کہ روس جنگ ختم کرانے کے لیے مدد کو تیار ہے اور اکتوبر کے آخر میں تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اجلاس کا خیر مقدم کیا۔
رضائی نے کہا کہ ایران نے امریکیوں کے سامنے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک ان پر عمل نہیں ہوتا، ایران نہ آبنائے ہرمز کھولے گا اور نہ مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی دوستوں کی طرح ایران بھی سمجھتا ہے کہ علاقائی انتظامات ہونے چاہئیں اور بیرونی ممالک کو خطے کی سلامتی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
رضائی کے مطابق بات چیت میں توانائی کے تعاون کو بڑھانے اور روس سے ایران گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے بھی شامل تھے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق اس سے ایران کی گیس کی قلت کم ہوگی اور روس پڑوسی ممالک کو گیس بیچ سکے گا۔
ملاقات ایسے وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ باقی ملک کو تباہ کرنا پسند نہیں کریں گے لیکن شاید ایسا کرنا پڑے۔ ایکسیوس نے ایک سینئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمان بڑے پیمانے پر ممکنہ کارروائی کی تیاری تیز کر رہی ہے، تاہم نئے احکامات نہیں ملے۔
جنگ ختم کرانے کی کوششیں آبنائے ہرمز، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی، پابندیوں اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے گرد گھوم رہی ہیں۔ قطر ثالثی تیز کر رہا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کویت، سعودی عرب، عمان، قطر، ترکیہ اور اردن کے ہم منصبوں سے فون پر بات کی۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 2 نومبر کو بتایا تھا کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کھولنے کا دو روزہ منصوبہ پیش کیا ہے، جو امریکا کے شرائط ماننے سے مشروط ہے۔ 6 نومبر کو ہم نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو شاید باقی ایران تباہ کرنا پڑے اور وہ جلد فیصلہ کریں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
اکتوبر کے آخر میں تہران کے جس اجلاس کا پوٹن نے خیر مقدم کیا، اس میں پاکستان بھی شریک تھا، اس لیے علاقائی سفارت کاری کا براہ راست تعلق پاکستان سے ہے۔ جنگ اور آبنائے ہرمز کا اثر ایندھن کی قیمتوں پر پڑتا ہے: خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 5 نومبر کو پیٹرول 352.59 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں پاکستانی گھرانے اور کاروبار صورتحال پر گہری نظر رکھیں گے۔



