ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان اور برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی، سائبر کرائم اور امیگریشن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور برطانیہ نے جمعہ کو انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، سائبر کرائم اور امیگریشن میں تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ یہ بات اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جارویس کی ملاقات میں طے پائی۔

پاکستان اور برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی، سائبر کرائم اور امیگریشن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
تصویر: Foreign, Commonwealth & Development Office / Wikimedia Commons, CC BY 2.0
اہم نکات
  • دونوں ممالک کا انسدادِ دہشت گردی، منشیات، سائبر کرائم، امیگریشن، کوسٹ گارڈز اور تربیت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
  • انسدادِ منشیات پر مفاہمتی یادداشت جلد حتمی کی جائے گی
  • محسن نقوی کے مطابق برطانیہ منشیات اسمگل کرنے کے 330 کیس ناکام بنائے گئے
  • دونوں وزارتِ داخلہ کے ورکنگ گروپ کا اجلاس جلد ہوگا
330محسن نقوی کے مطابق ناکام بنائے گئے منشیات اسمگلنگ کیس

وزارتِ داخلہ کے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات، سائبر کرائم، امیگریشن، کوسٹ گارڈز کی کارروائیوں اور تربیتی پروگراموں میں تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ مفاہمت اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جارویس کی ملاقات میں طے پائی۔ دونوں وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ 24 نیوز کے مطابق جارویس نے وزیر مملکت طلال چوہدری سے بھی بات چیت کی۔ جیو نیوز کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے حکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔

ڈین جارویس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے غیر قانونی امیگریشن روکنے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی کارکردگی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں بہترین تعاون ہے جسے مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔

سائبر کرائم کے بارے میں جارویس نے کہا: "سائبر کرائم ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور تمام ممالک کو اس سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ یہ بات جیو نیوز نے رپورٹ کی۔

دونوں فریقین نے انسدادِ منشیات پر مفاہمتی یادداشت جلد حتمی کرنے پر اتفاق کیا۔ جیو نیوز کے مطابق اس سے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے درمیان تعاون مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ 24 نیوز کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ یہ تعاون چند برسوں میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

محسن نقوی نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں برطانیہ منشیات اسمگل کرنے کے 330 کیس ناکام بنائے گئے۔

دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان قائم ورکنگ گروپ کا اجلاس بھی جلد بلانے پر اتفاق ہوا۔ محسن نقوی نے اپ اسکل منصوبے میں پیش رفت کو سراہا اور کہا کہ اس سے پاکستانی اداروں کی استعداد بڑھ رہی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

امیگریشن اور سائبر کرائم پر طے پانے والا تعاون ان پاکستانیوں کے لیے اہم ہے جو برطانیہ سفر کرتے ہیں، وہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں یا ویزے کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ جارویس نے غیر قانونی امیگریشن روکنے پر ایف آئی اے کی تعریف کی، جو اس معاملے پر مشترکہ کوششوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ مجوزہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے انسدادِ منشیات اداروں کے تعاون کو باضابطہ شکل دے گی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پاکستان برطانیہ تعلقاتسائبر کرائمانسدادِ دہشت گردی

اس خبر پر مزید