ٹرمپ: امریکہ کو شاید باقی ایران تباہ کرنا پڑے، جلد فیصلہ ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب کہا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ ایران کے خلاف جنگ کو بڑھایا جائے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو شاید باقی ملک تباہ کرنا پڑے۔

- ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ایران جنگ کو وسعت دینے کا فیصلہ کریں گے۔
- ان کے مطابق وہ باقی ملک تباہ نہیں کرنا چاہتے مگر ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔
- انہوں نے تسلیم کیا کہ تنازع میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب کہا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ ایران کے خلاف جنگ کو وسعت دی جائے یا نہیں۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کو شاید باقی ایران "تباہ" کرنا پڑے اور لوگ جلد جان لیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انتظامیہ یہ طے کرے گی کہ کیا اس سے آگے جانا ہے تاکہ ایران کا جوہری پروگرام کبھی بحال نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے، لیکن "شاید مجھے کرنا پڑے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑی تو "ہم پوری طرح تیار ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو دوبارہ تعمیر ہونے میں 25 سے 30 سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس تنازع میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایکسیوس کو دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ایران پر اس ہفتے ہونے والا اجلاس وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلا تھا، جن میں ڈیموکریٹس جیتے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ مزید حملوں، معاشی دباؤ جاری رکھنے یا معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹس کی جیت ٹرمپ کو جنوری میں نئی کانگریس کے آنے سے پہلے کارروائیاں تیز کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پر ایک مہمان نے قیاس کیا کہ وہ تقریباً دو ماہ میں حملہ کر سکتے ہیں۔ ایران انٹرنیشنل نے بتایا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی نگرانی کو مضبوط کر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے دیگر اداروں کو مختلف اشارے دیے۔ انہوں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ فوری طور پر کسی نئے بڑے حملے کا منصوبہ نہیں۔ پولیٹیکو سے کہا کہ جنگ کا فیصلہ درست تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل سے کہا کہ جنگ انتخابی نتیجے کا ایک حصہ تھی، اور فاکس نیوز سے کہا کہ مسئلہ پٹرول کی قیمت کا تھا، جنگ کا نہیں۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھنے والی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن شکست پر اثر ڈالا۔ 4 نومبر کو آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی تنصیب پر امریکی حملے کی خبر دی گئی تھی، جبکہ قطر نے ثالثی تیز کی۔
یہ کیوں اہم ہے
ایران جنگ میں شدت سے خلیجی پروازیں، تیل کی قیمتیں اور خطے میں پاکستانی کارکنوں کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 5 نومبر کو پٹرول 352.59 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر تھا، اس لیے گھرانے اور ٹرانسپورٹرز ایندھن کی قیمتوں پر نظر رکھتے ہیں۔



