مریم نواز نے پنجاب میں سی ایم کرائم سرویلنس یونٹ کا افتتاح کر دیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعہ کو سی ایم کرائم سرویلنس یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یونٹ صوبے بھر میں پولیسنگ اور پولیس افسران کی کارکردگی کی ڈیجیٹل نگرانی کرے گا۔

- یونٹ ضلع، سرکل اور تھانے کی سطح پر پولیسنگ کی نگرانی کرے گا
- جرائم کی 20 کیٹیگریز کا ڈیٹا مرتب ہوگا
- ڈی پی اوز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا
- وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے پولیس اصلاحات کا منصوبہ طلب کیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعہ کو سی ایم کرائم سرویلنس یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس کا مقصد صوبے بھر میں جرائم کی نگرانی کو مضبوط بنانا اور پولیس کی کارکردگی بہتر کرنا ہے۔
یونٹ ضلع، سرکل اور تھانے کی سطح پر اسمارٹ پولیسنگ کی ڈیجیٹل نگرانی کرے گا۔ اس نظام کے تحت ڈی پی اوز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جائے گا، اور پنجاب کے ہر تھانے کا تازہ ترین جرائم کا ڈیٹا ایک کلک پر دستیاب ہوگا۔
یونٹ کے سربراہ عثمان طاہر نے وزیراعلیٰ کو نظام کے بارے میں بریفنگ دی۔ یونٹ میں جرائم کی 20 مختلف کیٹیگریز کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور ماہرین فوری ڈیٹا تجزیاتی رپورٹس تیار کریں گے۔
نظام شہریوں کی شکایات اور درخواستوں کے بروقت نمٹائے جانے کی نگرانی بھی کرے گا اور غیر ضروری تاخیر کی صورت میں اہلکاروں کے خلاف کارروائی ممکن ہوگی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یونٹ قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق قابل توجہ سوشل میڈیا پوسٹس کی نشاندہی بھی کرے گا۔
مریم نواز نے آئی جی پنجاب کو پولیس اصلاحات کا منصوبہ تیار کرنے اور تھانوں کے ریکارڈ مینجمنٹ ڈیٹا کا درست استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر کی شکایات پر ناراضی کا اظہار کیا اور پولیس کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا فوری جواب دینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ یونٹ جرائم کے خلاف مہم کو مزید مؤثر بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا: "پنجاب کو ہر قسم کے جرائم سے پاک کرنا چاہتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں اور چند افراد کی وجہ سے پوری پولیس فورس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانا درست نہیں۔
وزیراعلیٰ نے پولیس اصلاحات کے بعد پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی کے رجحان کا خیرمقدم کیا۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ یونٹ پنجاب کے ہر تھانے پر لاگو ہوگا، اس لیے شکایت یا ایف آئی آر کی درخواست دینے والے شہری بھی اس نگرانی کے دائرے میں آتے ہیں۔ نظام کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ شکایات بروقت نمٹائی جائیں اور تاخیر پر اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو سکے۔ ڈی پی اوز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسی ڈیٹا سے لیا جائے گا۔



