ابھی ابھی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ہفتہ وار مہنگائی 0.29 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 12.31 فیصد

ادارہ شماریات کے مطابق 5 نومبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر 0.29 فیصد بڑھا۔ سالانہ بنیاد پر مہنگائی 12.31 فیصد رہی۔

ہفتہ وار مہنگائی 0.29 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 12.31 فیصد
تصویر: stevepb / Pixabay
اہم نکات
  • ہفتہ وار SPI 373.51 سے بڑھ کر 374.61 پوائنٹس ہو گیا
  • سالانہ مہنگائی 12.31 فیصد
  • ٹماٹر 54.18 فیصد مہنگے، پیٹرول 4.20 فیصد سستا
  • کم ترین آمدن والے گروپ میں 0.86 فیصد اضافہ
0.29 فیصدہفتہ وار SPI تبدیلی
374.61 پوائنٹسSPI کی سطح
12.31 فیصدسالانہ مہنگائی
54.18 فیصدٹماٹر، ہفتہ وار اضافہ

پاکستان ادارہ شماریات نے جمعہ کو بتایا کہ 5 نومبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مجموعی صارف گروپ کے لیے سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر (SPI) کی بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی 0.29 فیصد بڑھی۔

ادارہ شماریات کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں SPI 373.51 پوائنٹس سے بڑھ کر 374.61 پوائنٹس ہو گیا۔ سالانہ بنیاد پر SPI مہنگائی 12.31 فیصد رہی۔ ہفتہ وار SPI کا بنیادی سال 2015-16 ہے اور یہ 17 شہری مراکز میں 51 ضروری اشیا کا احاطہ کرتا ہے۔

کم آمدن والے گھرانوں پر اثر زیادہ رہا۔ 17,732 روپے تک خرچ کرنے والے کم ترین گروپ کا SPI 0.86 فیصد بڑھ کر 361.00 پوائنٹس ہو گیا، جو پہلے 357.92 تھا۔ 17,733 سے 22,888 روپے والے گروپ میں 0.70 فیصد، 22,889 سے 29,517 روپے والے میں 0.52 فیصد اور 29,518 سے 44,175 روپے والے میں 0.40 فیصد اضافہ ہوا۔ 44,175 روپے سے زائد والے گروپس میں 0.10 فیصد اضافہ ہوا۔

زیر نگرانی 51 اشیا میں سے 21 (41.18 فیصد) کی قیمتیں بڑھیں، 10 (19.60 فیصد) کی کم ہوئیں اور 20 (39.22 فیصد) کی قیمتیں برقرار رہیں۔

ہفتہ وار بنیاد پر ٹماٹر (54.18 فیصد)، ایل پی جی (3.72 فیصد)، آلو (2.07 فیصد)، انڈے (1.17 فیصد)، لہسن (1.06 فیصد)، جلانے کی لکڑی (1.01 فیصد)، پسا نمک (0.91 فیصد)، سادہ ڈبل روٹی (0.64 فیصد)، تازہ دودھ (0.49 فیصد) اور دہی (0.41 فیصد) مہنگے ہوئے۔

پیٹرول (4.20 فیصد)، ڈیزل (2.97 فیصد)، چنے کی دال (1.08 فیصد)، کیلے (0.85 فیصد)، پیاز (0.82 فیصد)، پاؤڈر دودھ (0.73 فیصد)، مرغی (0.61 فیصد)، چینی (0.40 فیصد)، گندم کا آٹا (0.34 فیصد) اور مونگ کی دال (0.27 فیصد) سستے ہوئے۔

سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ایل پی جی (114.88 فیصد)، ٹماٹر (78.89 فیصد)، پہلی سہ ماہی کی بجلی (52.38 فیصد)، ڈیزل (39.27 فیصد)، پیٹرول (36.34 فیصد)، گندم کا آٹا (33.95 فیصد) اور مرغی (31.81 فیصد) میں ہوا۔ آلو (37.24 فیصد)، انڈے (27.59 فیصد) اور چینی (25.03 فیصد) ایک سال پہلے کے مقابلے میں سستے رہے۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو بتایا تھا کہ حکومت نے اسی دن سے پیٹرول کی قیمت کم کر کے 352.59 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی 382.25 روپے کر دی، جو مسلسل چوتھی کمی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

ہفتہ وار SPI روزمرہ اشیا جیسے خوراک، ایندھن اور گیس کی قیمتوں کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ 17,732 روپے تک خرچ کرنے والے کم ترین گروپ میں سب سے زیادہ، 0.86 فیصد اضافہ ہوا۔ اس ہفتے ٹماٹر، ایل پی جی، آلو اور انڈے مہنگے ہوئے جبکہ پیٹرول اور ڈیزل سستے ہوئے۔ سالانہ بنیاد پر ایل پی جی اور گندم کا آٹا ایک سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

مہنگائیSPIادارہ شماریات

اس خبر پر مزید