وزیراعظم کی ٹی ڈی اے پی کی تشکیلِ نو کی منظوری، برآمدات بڑھانے کا ہدف
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کو جدید خطوط پر ازسرِنو ترتیب دینے کی منظوری دی ہے۔ اصلاحات آئندہ سال کے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- برآمدات بڑھانے اور صنعتوں بشمول ایس ایم ایز کو برآمدی معیار کے مطابق بنانے کے لیے ٹی ڈی اے پی کی تشکیلِ نو
- مجوزہ اصلاحات میں ادارے کو آٹھ بنیادی کاموں تک محدود کرنا شامل ہے
- 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ پیش، اصلاحات آئندہ سال کے وسط تک مکمل ہوں گی
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو جدید خطوط پر ازسرِنو ترتیب دینے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں ان کی زیرِ صدارت ادارے کی کارکردگی اور اصلاحات کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔
تشکیلِ نو کا مقصد پاکستانی برآمدات کو فروغ دینا، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانا اور مقامی صنعتوں بشمول چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو برآمدی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق صنعتی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی برآمدات بڑھانے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
اجلاس کو ٹی ڈی اے پی کی موجودہ کارکردگی، ادارہ جاتی ڈھانچے اور موجودہ نظام کو درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی گئی۔ مجوزہ اصلاحات میں ادارے کا دائرہ کار آٹھ بنیادی امور تک محدود کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیلِ نو اور علاقائی نیٹ ورک کو مؤثر بنانا شامل ہیں۔
ان میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال، قابلِ پیمائش اشاریوں کا اجرا اور آزاد فریقِ ثالث کا جائزہ بھی شامل ہے۔ منظوری، ڈیزائن، عمل درآمد اور آزادانہ جائزے پر مشتمل 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی برآمد کا پورا ماحولیاتی نظام، بشمول پوری ویلیو چین، تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تربیت یافتہ افرادی قوت کو شفاف طریقے سے اور میرٹ پر ادارے کا حصہ بنایا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات اسی صورت ممکن ہیں جب اداروں میں ترقی کو اہداف اور کارکردگی کے حصول سے مشروط کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ادارے کی کارکردگی اور مالی آڈٹ کے لیے کسی معتبر نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی برآمدی صلاحیت وسیع ہے اور اس کا جغرافیہ نہایت موزوں ہے، جبکہ حکومت صنعتوں اور ایس ایم ایز کو برآمدات بڑھانے کے لیے سہولتیں دے رہی ہے۔ انہوں نے اصلاحات آئندہ سال کے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، ڈاکٹر مصدق ملک، رانا تنویر حسین، جام کمال خان اور احد خان چیمہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔
پس منظر
خبر.پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے طویل مدتی فنانسنگ میں 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ ہدایت برآمدی ایس ایم ایز کی سہولتوں سے متعلق اجلاس میں دی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے
برآمد کنندگان بشمول ایس ایم ایز تجارتی معاونت کے لیے ٹی ڈی اے پی سے رجوع کرتے ہیں، اس لیے اس کے ڈھانچے اور کاموں میں تبدیلی ان پر اثر ڈال سکتی ہے۔ منصوبے میں زرعی برآمدات کی ویلیو چین بھی شامل ہے، جو زرعی شعبے کے کاروبار اور اس سے جڑے روزگار کے لیے اہم ہے۔ اصلاحات آئندہ سال کے وسط تک مکمل ہونی ہیں۔



