ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی 10 سالہ سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے 10 سالہ سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کر دی ہیں۔ انہوں نے سزاؤں کی معطلی اور اپیلوں کے فیصلے تک رہائی کی درخواست بھی دی ہے۔

- جوڑے نے جمعہ 6 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کیں۔
- راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 29 اکتوبر کو دونوں کو 10 سال قید سنائی تھی۔
- اپیلوں میں مؤقف ہے کہ منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
- ہائیکورٹ نے اپیلوں کو نمبر الاٹ کر دیے ہیں۔
انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جمعہ کو بیریئر ہٹانے کے کیس، جسے سکیورٹی خلاف ورزی کا کیس بھی کہا گیا، میں سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کر دیں۔ جیو نیوز کے مطابق ہائیکورٹ نے اپیلوں کو کیس نمبر الاٹ کر دیے ہیں۔
اپیلیں دفاعی وکلا فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ نے دائر کیں۔ اپیلوں کے ساتھ جوڑے نے سزائیں معطل کرنے اور اپیلوں کے فیصلے تک ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں بھی دیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اپیلوں میں ٹرائل کورٹ کی سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 29 اکتوبر کو دونوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت 10 سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ دفعہ 353 کے تحت مزید دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، جبکہ دفعہ 186 کے تحت ایک سال مزید قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہوا۔ عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیا اور فیصلہ دیا کہ تمام سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی، یوں مجموعی قید 10 سال ہے۔
مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو تھانہ آبپارہ میں درج ہوا۔ جیو نیوز کے مطابق اس کی بنیاد یہ الزام ہے کہ جوڑے نے اکتوبر 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران ریاستی امور میں مداخلت کی۔ عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔
اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے، اور اس بارے میں عدالتی نظائر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اپیلوں میں یہ بھی کہا گیا کہ جیل ٹرائل خفیہ ٹرائل کی طرح چلایا گیا جو آرٹیکل 10 کے منافی ہے۔
چوبیس نیوز نے ایمان مزاری کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرائل کورٹ نے منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے کیے اور من گھڑت اور سیاسی بنیادوں پر مقدمہ دباؤ میں رکھنے کے لیے بنایا گیا (انگریزی سے ترجمہ)۔ یہ الفاظ رپورٹ کے مطابق ہیں اور اپیلوں کے مؤقف سے مختلف ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کرے گی جو طے کرے گی کہ سزائیں معطل ہوتی ہیں یا کالعدم۔ نمایاں شخصیات کے خلاف مقدمات اور ان پر عدالتی کارروائی کو دیکھنے والے قارئین اس نتیجے پر نظر رکھیں گے۔ اپیلوں میں آرٹیکل 10 کے تحت جیل ٹرائل میں منصفانہ ٹرائل کا سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔



