ترکیہ کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔ حق میں 279 اور مخالفت میں 119 ووٹ پڑے۔

- ترکیہ کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کی۔
- 592 میں سے 398 ارکان نے ووٹ دیا، 279 حق میں اور 119 مخالف رہے۔
- معاہدے میں تمام رکن ممالک کے لیے اجتماعی دفاع کی شق شامل ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ترکیہ کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔ یہ معاہدہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کہلاتا ہے۔ عرب نیوز نے بھی منظوری کی خبر دی اور کہا کہ اس سے یمن سے حوثیوں کے حملوں کے دوران سعودی عرب کو فوجی مدد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
معاہدہ 279 ووٹوں کے حق اور 119 کی مخالفت سے منظور ہوا۔ ایوان کے 592 ارکان میں سے 398 نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ معاہدے کی منظوری کے بل کی پہلی شق بدھ کو منظور ہوئی تھی، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر جلال آدان نے اجلاس جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کر دیا۔
ترکیہ نے اگست میں اس معاہدے پر پہلی بار دستخط کیے تھے اور گزشتہ ماہ اسے توثیق کے لیے پارلیمنٹ بھیجا۔ پارلیمنٹ میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق معاہدہ 16 شقوں پر مشتمل ہے۔ پہلی شق کے مطابق دستخط کنندگان ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے، اور کسی بھی رکن ملک پر حملے کی صورت میں اسے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ دوسری شق کے تحت مسلح حملے کا شکار فریق کو دیگر ارکان سے فوری مدد ملے گی۔
دیگر شقوں میں مشترکہ تربیت، تکنیکی جدت، اور لاجسٹکس و انٹیلی جنس کے تبادلے کا عہد شامل ہے۔ مسودے کے مطابق رکن ممالک 10 سال تک معاہدے کے پابند ہوں گے، جس کے بعد وہ الگ ہو سکتے ہیں۔ موجودہ ارکان کی منظوری سے دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں، اور الجزیرہ کے مطابق شام کی حکومت نے شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ناقدین نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ پر سوال اٹھائے ہیں کیونکہ ترکیہ نیٹو اور مکہ معاہدے دونوں کا رکن ہے۔ ترک حکام نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں ترک فوج کی کسی بھی تعیناتی کے لیے دیگر قانونی مراحل درکار ہوں گے۔
ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گلر نے اکتوبر میں کہا تھا کہ سعودی عرب کو ممکنہ مدد کا دائرہ توثیق کے بعد طے کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "ہم حوثیوں کے ساتھ کسی تنازع میں شامل ہونے کا بالکل تصور نہیں کرتے" (انگریزی سے ترجمہ)۔
الجزیرہ کے مطابق حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں سعودی عرب پر حملے تیز کیے ہیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مہلک حملے بھی شامل ہیں۔ جمعرات کو سعودی عرب نے کہا کہ اس نے مدینہ کے علاقے میں ایک ڈرون روکا۔ ریاض نے کئی بار حوثیوں پر مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جسے حوثی مسترد کرتے ہیں۔
پس منظر
خبر.پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا کہ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس کے فضائی دفاع نے مدینہ کے علاقے کی جانب حوثیوں کا داغا ہوا بیلسٹک میزائل تباہ کیا۔ 2 نومبر کو اس نے رپورٹ کیا کہ اتحاد نے جنوبی سعودی عرب کی جانب آنے والا میزائل مار گرایا۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان اس معاہدے کا فریق ہے، اس لیے اس کی دفاعی ذمہ داریاں اور علاقائی کردار براہ راست اس سے جڑے ہیں۔ ترکیہ کی توثیق سے ایک اور رکن کی فوج حملے کی صورت میں گروپ کی مدد کی پابند ہو گئی ہے۔ اجتماعی دفاع کی شق پاکستان سمیت تمام ارکان پر لاگو ہوتی ہے۔



