کومسیک اجلاس استنبول: پاکستان اور ترکیہ کا تجارتی تعلقات بڑھانے کا اعادہ
وزیر تجارت جام کمال خان نے استنبول میں کومسیک کے 42ویں اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر تجارت سے ملاقات کی۔ انہوں نے سعودی عرب، مصر اور تیونس کے حکام سے بھی الگ ملاقاتیں کیں۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- جام کمال خان نے استنبول میں ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے ملاقات کی۔
- بات چیت میں دوطرفہ تجارت بڑھانے اور پاکستانی زرعی مصنوعات کے فروغ پر توجہ رہی۔
- انہوں نے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب، مصر اور تیونس کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔
دی نیشن بزنس کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بدھ کو استنبول میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقتصادی و تجارتی تعاون (کومسیک) کے 42ویں اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے دوطرفہ ملاقات کی۔ بات چیت کا محور دوطرفہ تجارت میں اضافہ اور پاکستانی زرعی مصنوعات کا فروغ تھا۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کی اس کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر جام کمال خان نے سعودی عرب، مصر اور تیونس کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور صنعتی تعاون پر بات ہوئی۔
پاکستان اور سعودی عرب نے زراعت، صنعت، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ جام کمال خان نے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبوں کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور سعودی کمپنیاں افریقی منڈیوں میں مشترکہ تجارتی مواقع تلاش کریں، اور سعودی وفد کو پاکستان میں ہونے والی آئندہ فوڈ نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔
انہوں نے مصر کے وزیر سرمایہ کاری و خارجہ تجارت محمد فرید صالح سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے ٹیکسٹائل، کپاس، صنعت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر بات کی۔ مصری وزیر نے کہا کہ مصر میں قائم صنعتی یونٹس کو امریکی منڈی تک رسائی مل سکتی ہے۔ انہوں نے آئندہ بزنس فورم میں شریک پاکستانی کمپنیوں کی تفصیلات مانگیں اور پاکستانی طلبہ کے لیے طب، انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعلیمی مواقع کی نشاندہی کی۔
تیونس کے وزیر تجارت و برآمدی ترقی سمیر عابد سے ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو اس کی حقیقی صلاحیت تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں کی موجودہ تجارت دستیاب مواقع سے بہت کم ہے۔ زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس اور مینوفیکچرنگ میں تعاون پر بھی بات ہوئی۔
جام کمال خان نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھا کر پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: "پاکستان نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ)
یہ کیوں اہم ہے
زراعت، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کے برآمد کنندگان کو فائدہ ہو سکتا ہے اگر بات چیت سے نئی منڈیاں کھلیں۔ وزارت تجارت کے مطابق پاکستان نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی اور زیادہ بین الاقوامی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔ مصر نے پاکستانی طلبہ کے لیے طب، انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعلیمی مواقع کا بھی ذکر کیا۔



