ابھی ابھی
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

امارات گروپ کا ششماہی منافع 66 فیصد گر گیا، خلیجی تنازع اور ایندھن مہنگا

امارات گروپ کا اپریل تا ستمبر بعد از ٹیکس منافع 66 فیصد کم ہو کر 3.6 ارب درہم رہ گیا۔ آمدنی 12 فیصد گھٹ کر 66.2 ارب درہم ہوئی اور مسافر 22 فیصد کم رہے۔

امارات گروپ کا ششماہی منافع 66 فیصد گر گیا، خلیجی تنازع اور ایندھن مہنگا
تصویر: N4TX / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • مالی سال 2026-27 کی پہلی छमاہی میں بعد از ٹیکس منافع 66 فیصد کمی سے 3.6 ارب درہم رہا
  • آمدنی 12 فیصد کم ہو کر 66.2 ارب درہم رہی
  • مسافروں کی تعداد 22 فیصد گھٹ کر 2 کروڑ 18 لاکھ رہی
  • کارگو آمدنی میں 52 فیصد اضافہ ہوا
3.6 ارب درہم (66 فیصد کمی)خالص منافع، اپریل تا ستمبر
66.2 ارب درہم (12 فیصد کمی)آمدنی
2 کروڑ 18 لاکھ (22 فیصد کمی)مسافر
72 فیصد (گزشتہ سال 79.5 فیصد)سیٹ فیکٹر

امارات گروپ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی، یعنی اپریل تا ستمبر، میں بعد از ٹیکس منافع میں سالانہ بنیاد پر 66 فیصد کمی کی اطلاع دی۔ خالص منافع 3.6 ارب درہم رہا جبکہ قبل از ٹیکس آمدنی 4.1 ارب درہم رہی۔

گروپ نے اس کی وجہ خلیجی تنازع سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور ایندھن کی بلند قیمتوں کو قرار دیا۔ گلف نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کا تنازع 28 فروری کو شروع ہوا۔ گروپ کی آمدنی 12 فیصد کم ہو کر 66.2 ارب درہم رہی جو ایک سال پہلے 75.4 ارب درہم تھی، اور اس سے پہلے ریکارڈ نتائج آئے تھے۔ ای بی آئی ٹی ڈی اے 41 فیصد گھٹ کر 12.5 ارب درہم رہا۔

امارات گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا کہ "گروپ نے جیٹ ایندھن کی عالمی قیمتوں میں تیز اضافے اور علاقائی رکاوٹوں کے باوجود منافع برقرار رکھا، جس میں صارفین کی مستحکم طلب اور مضبوط کارگو آپریشنز نے مدد دی۔" (انگریزی سے ترجمہ) چیئرمین کے مطابق حکومتی اداروں کے ساتھ رابطے سے خطے میں فضائی سفر محفوظ طریقے سے بحال کرنے اور سفری پابندیاں نرم کرنے میں مدد ملی۔

چھ ماہ میں امارات نے 2 کروڑ 18 لاکھ مسافر اڑائے جو 22 فیصد کم ہیں۔ مجموعی گنجائش 10 فیصد کمی سے 28.2 ارب دستیاب ٹن کلومیٹر رہی، جو پروازوں کے کم شیڈول کی عکاسی کرتی ہے۔ مسافروں کی دستیاب سیٹ کلومیٹر گنجائش 17 فیصد اور ریونیو پیسنجر کلومیٹر ٹریفک 25 فیصد کم ہوئی۔ اوسط سیٹ فیکٹر 79.5 فیصد سے گر کر 72 فیصد رہ گیا۔

گروپ کے مطابق جیٹ ایندھن کی عالمی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی ہو گئیں۔ امارات نے ایندھن کا استعمال 12 فیصد کم کیا، مگر ہیجنگ منافع سے پہلے ایندھن کی لاگت 60 فیصد بڑھی۔ ایندھن ایئرلائن کے آپریٹنگ اخراجات کا 34 فیصد رہا۔ ایندھن کی قیمتوں کے خطرے کے انتظام سے 7.1 ارب درہم کے فائدے نے ایندھن کی لاگت میں خالص اضافہ 13 فیصد تک محدود کر دیا، اور مجموعی آپریٹنگ اخراجات 2 فیصد کم ہوئے۔

کارگو کا شعبہ نسبتاً مضبوط رہا۔ امارات نے 12 لاکھ ٹن کارگو منتقل کیا جو 1 فیصد کم ہے، لیکن کارگو آمدنی 52 فیصد بڑھی۔ ایئرلائن نے پانچ بوئنگ 777 مال بردار طیارے شامل کیے، مسافر طیارے سے تبدیل شدہ پہلا مال بردار جہاز استعمال کیا، اور الماتی و ژینگژو کو اپنے مال بردار نیٹ ورک میں شامل کیا۔ 30 ستمبر تک ایئرلائن رکاوٹوں سے پہلے کے 91 فیصد نیٹ ورک پر پرواز کر رہی تھی، جو 78 ممالک اور خطوں کے 150 ہوائی اڈوں کو جوڑتا ہے۔

30 ستمبر کو گروپ کے نقد ذخائر 54.1 ارب درہم تھے جو مارچ کے آخر میں 59.6 ارب درہم تھے؛ کمی قرضوں کی ادائیگی، طیاروں کی پیشگی ادائیگیوں اور مالک کو 2 ارب درہم کے بقیہ منافع کی ادائیگی کے بعد آئی۔ ملازمین کی تعداد 2 فیصد کم ہو کر 128,237 رہ گئی۔ ذیلی ادارے دناتا کی آمدنی 11 ارب درہم رہی جو 7 فیصد کم ہے، اور قبل از ٹیکس منافع 51 فیصد گھٹ کر 41 کروڑ درہم رہا۔ گروپ بیڑے کی توسیع اور سہولیات کی بہتری میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا کہ فروری سے مغربی ایشیا کے تنازع میں 24 بھارتی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد دم توڑنے والا شخص بھی شامل ہے۔ 5 نومبر کو ہم نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھنے والی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی شکست پر اثر ڈالا۔

یہ کیوں اہم ہے

امارات پاکستانی مسافروں کی ایک بڑی ایئرلائن ہے، اور خلیج میں سست روی سے روزگار اور ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایئرلائن کے کم شیڈول اور مسافروں میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی تنازع نے فضائی سفر کو کس طرح متاثر کیا۔ 30 ستمبر تک وہ رکاوٹوں سے پہلے کے 91 فیصد نیٹ ورک پر پرواز کر رہی تھی۔ ایندھن کی لاگت کا اثر مقامی سطح پر بھی ہے، کیونکہ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 4 نومبر کو پیٹرول 362 روپے فی لیٹر تھا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اماراتخلیجی معیشتہوابازی

اس خبر پر مزید