ابھی ابھی
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

وزیراعظم نے ایس ایم ایز کے طویل مدتی قرض سے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کر دی

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کی 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کی جائے۔ انہوں نے جمعرات کو برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی سہولتوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

وزیراعظم نے ایس ایم ایز کے طویل مدتی قرض سے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کر دی
تصویر: Greg Walters / Wikimedia Commons, CC BY 2.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • ایس ایم ایز کے طویل مدتی قرض کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کر دی گئی۔
  • وزیراعظم کے مطابق کسی بینک کو رعایتی فنانسنگ اسکیم سے انحراف کی اجازت نہیں ہو گی۔
  • اسٹیٹ بینک کے پورٹل پر یکم نومبر کے بعد 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔
80 فیصدختم کی گئی برآمدی شرط
300 ارب روپےایکسپورٹ فنانس اسکیم کی رقم
350 ارب روپےاس سال طویل مدتی سہولت کی رقم
10 ہزار سے زائدیکم نومبر کے بعد درخواستیں

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنے کی 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کی جائے۔

انہوں نے یہ ہدایت برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کو سہولتیں دینے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، کئی وفاقی وزرا، وزیراعظم کے مشیر، ایک وزیر مملکت، پارلیمانی سیکریٹری، قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین، گورنر اسٹیٹ بینک اور سینئر افسران شریک تھے۔

اجلاس میں ٹیکس، ریفنڈز، صوبائی محصولات، اکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق ایس ایم ایز کے مسائل پر بات ہوئی۔ بریفنگ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 ہزار ایس ایم ایز برآمدات سے منسلک ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے یکم نومبر کو ایس ایم ای شعبے کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کا پورٹل شروع کیا، جس پر 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

ایس ایم ایز اور نئے برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ طویل مدتی ڈویلپمنٹ فنانس سہولت کے لیے اس سال 350 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ افریقی ممالک کو پاکستانی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر عمل درآمد سے کسی بینک کو انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولتیں یقینی بنائی جائیں اور حکومت صلاحیت، مہارت اور کاروبار کی نمو میں معاونت کرے گی۔

انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے اکریڈیٹیشن کے معیار اور لیبارٹریوں کی توسیع بہتر بنانے اور انہیں دہلیز پر سہولت دینے کے لیے جدید لیبارٹریاں قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

یہ کیوں اہم ہے

جو چھوٹے اور درمیانے کاروبار بنیادی طور پر ملک کے اندر فروخت کرتے ہیں، وہ اب 80 فیصد برآمدات کی شرط پوری کیے بغیر طویل مدتی فنانسنگ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ بریفنگ کے مطابق تقریباً 17 ہزار ایس ایم ایز برآمدات سے منسلک ہیں، اور بینکوں کو رعایتی قرض اسکیم پر بلا انحراف عمل کرنے کی ہدایت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پورٹل پر پہلے ہی 10 ہزار سے زائد درخواستیں آ چکی ہیں۔ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے لیے 300 ارب اور طویل مدتی سہولت کے لیے اس سال 350 ارب روپے مختص ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایس ایم ایزبرآمداتاسٹیٹ بینک

اس خبر پر مزید