ایران پر غیر یقینی صورتحال، امن کی امیدوں کے باوجود تیل کی قیمتیں معمولی بڑھ گئیں
جمعہ کو برینٹ خام تیل رپورٹس کے مطابق 98.29 سے 99.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو دو ماہ کی کم ترین سطح کے قریب سے بحالی کے بعد ہے۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی کے خطرے اور سفارتی پیش رفت کی امید کو تول رہے ہیں۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- جمعہ کو برینٹ 98.29 ڈالر (گلف نیوز) اور 99.90 ڈالر (سی این بی سی) فی بیرل رہا۔
- برینٹ بدھ کو 8 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا۔
- ریپڈن انرجی گروپ کے باب میک نیلی کے مطابق امریکا اور ایران میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان 80 فیصد ہے۔
- آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملے جاری ہیں۔
جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ برقرار رہا، جو دو ماہ کی کم ترین سطح سے بحالی کے بعد سامنے آیا۔ تاجر امریکا اور ایران کے درمیان نئی فوجی کشیدگی کے خطرے اور سفارتی معاہدے کے امکان کو تول رہے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق 6 نومبر کو بیجنگ کے وقت صبح 8:41 پر برینٹ کے سودے 98.29 ڈالر فی بیرل پر تھے، یعنی 3.67 ڈالر یا 3.88 فیصد اضافہ۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیئٹ 55 سینٹ یا 0.61 فیصد بڑھ کر 91.07 ڈالر پر رہا۔ سی این بی سی کے مطابق بعد میں برینٹ 1.67 فیصد اضافے سے 99.90 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 1.43 فیصد اضافے سے 91.69 ڈالر پر تھا۔
جمعرات کو برینٹ چار سیشنز میں پہلی بار بڑھا، جبکہ ایک دن پہلے وہ 8 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچا تھا۔ ٹریڈنگ اکنامکس کے مطابق جمعرات کو یہ مختصر وقت کے لیے 98.44 ڈالر تک گیا۔ اکتوبر کے آخر میں خام تیل 118 ڈالر فی بیرل کی طرف بڑھ گیا تھا۔
خطے میں جہاز رانی متاثر ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستے استعمال کرنے کی کوشش پر دو آئل ٹینکروں اور ایک ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی۔ ایران نے جمعرات کو ٹینکروں پر تین مزید حملوں کی بھی اطلاع دی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق اتوار سے خلیج میں کم از کم پانچ جہازوں کے واقعات ہوئے، اور اس کے اعداد و شمار کے مطابق حملے تقریباً ریکارڈ شرح سے جاری ہیں۔ 28 فروری 2026 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں شپنگ انشورنس کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ریپڈن انرجی گروپ کے صدر باب میک نیلی نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان 80 فیصد ہے، اور دونوں بینچ مارک 100 ڈالر سے اوپر جا سکتے ہیں۔ لومبارڈ اوڈیئر کے چیف اکانومسٹ سیمی چار اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی کے سربراہ لوکا بنڈیلی بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔
میک نیلی نے کہا: "صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی میراث کے طور پر تقریباً ہر قیمت پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور اس سے جوہری صلاحیتیں ترک کروانے کے لیے پرعزم ہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے مزید کہا: "دوسری طرف ایرانی حکومت ایسا کرنے کو تیار نہیں۔ اور جب تک معاہدے کے دائرے میں یہ بنیادی اختلاف موجود ہے، کشیدگی کا سلسلہ برقرار رہے گا۔" (انگریزی سے ترجمہ)
یوریشیا گروپ نے امریکی حملے دوبارہ ہونے کا امکان 65 فیصد سے کم کر کے 60 فیصد اور معاہدے کا امکان 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا۔ اس کے مطابق کشیدگی بڑھنے پر برینٹ 110 سے 125 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔ سی این بی سی کے حوالے سے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو جوہری تجویز بھیجی ہے۔
امریکی ذخائر کی رپورٹ کے مطابق خام تیل، پٹرول اور ڈسٹیلیٹ کے ذخائر کم ہوئے جبکہ طلب ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ گلف نیوز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات کی بحالی کے مقابلے میں ریفائنڈ ایندھن کی فراہمی میں بہتری نہیں آئی۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 26 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب پر حملوں کے باعث سپلائی کے خدشات کے درمیان برینٹ تقریباً 114 سے 115 ڈالر فی بیرل پر تھا۔ 27 اکتوبر کو رپورٹ کیا گیا کہ علاقائی ثالثوں کے تہران روانہ ہونے پر برینٹ 6 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 110 ڈالر پر آ گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
عالمی تیل کی قیمتیں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اور درآمدی بل پر اثر ڈالتی ہیں۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 5 نومبر کو پٹرول 352.59 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر تھا۔ اس لیے ایندھن پر انحصار کرنے والے گھرانے، ٹرانسپورٹر اور کاروبار خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتے ہیں۔ 5 نومبر کو انٹربینک میں ڈالر 276.67 روپے پر بند ہوا۔



