ابھی ابھی
مارکیٹس3 ذرائع سے تصدیق شدہ

اے آئی ڈیٹا سینٹر خدشات پر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

جمعرات کو ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں ریکارڈ 2.9 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوئی اور جمعے کو ایشیائی ٹیک شیئرز بھی گرے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر سخت قواعد آ سکتے ہیں۔

اے آئی ڈیٹا سینٹر خدشات پر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی
تصویر: Pexels / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • جمعرات کو ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کی ویلیو میں ریکارڈ 2.9 ٹریلین ڈالر کمی ہوئی اور فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس 12.2 فیصد گرا۔
  • جمعے کو جاپان کا نکی ایک موقع پر تقریباً 7 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی 8.8 فیصد گرا۔
  • سرمایہ کاروں کو اے آئی پر سخت ضوابط اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع میں رکاوٹ کا خدشہ ہے۔
2.9 ٹریلین ڈالرجمعرات کو ایس اینڈ پی 500 کی کھوئی ہوئی ویلیو
12.2 فیصد کمیفلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس، جمعرات
5.5 فیصد کمینیس ڈیک کمپوزٹ، جمعرات
100 ڈالر فی بیرل سے کچھ کمبرینٹ خام تیل

یورونیوز اور الجزیرہ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں کو اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر سخت قواعد کا خدشہ ہے، جس سے جمعرات اور جمعے کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیز گراوٹ آئی۔

جمعرات کو ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں ریکارڈ 2.9 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوئی۔ نیس ڈیک کمپوزٹ 5.5 فیصد، ایس اینڈ پی 500 4.4 فیصد اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 3.4 فیصد گرا۔ یورونیوز کے مطابق تینوں انڈیکسز میں یومیہ فیصد کمی اپریل 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع ٹیرف کے اعلان کے بعد سب سے زیادہ تھی۔ نیس ڈیک اپنی ریکارڈ بلند سطح سے 11.9 فیصد نیچے بند ہوا۔

فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس 12.2 فیصد گر کر بند ہوا، جو 2020 کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی کمی ہے۔ جمعرات کے اختتام تک ہفتے میں یہ انڈیکس تقریباً 16 فیصد نیچے رہا۔

جمعے کو ایشیائی مارکیٹس بھی گریں۔ جاپان کا نکی 225 ایک موقع پر تقریباً 7 فیصد گرا اور ٹوکیو میں دوپہر تک 5.7 فیصد نیچے رہا۔ کیوکسیا اور سافٹ بینک 10 فیصد سے زیادہ اور ایڈوانٹیسٹ 8 فیصد سے زیادہ گرے۔ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک موقع پر 8.8 فیصد گرا، جس پر 20 منٹ کے لیے ٹریڈنگ روکی گئی۔ ایس کے ہائنکس تقریباً 10 فیصد اور سام سنگ الیکٹرانکس تقریباً 8 فیصد نیچے رہے۔ تائیوان کا تائیکس ابتدا میں 8 فیصد سے زیادہ گرنے کے بعد 4.5 فیصد کمی پر بند ہوا، جبکہ ٹی ایس ایم سی کے شیئرز 8.5 فیصد تک گرے۔

خطے میں دیگر مارکیٹس میں کمی کم رہی: ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.7 فیصد، شنگھائی کمپوزٹ 1.3 فیصد اور آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی/اے ایس ایکس 200 ایک فیصد نیچے رہا۔

یورونیوز نے مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی کلین ویو کے حوالے سے بتایا کہ امریکا میں منصوبہ بند ڈیٹا سینٹر صلاحیت کا تقریباً 40 فیصد ان ریاستوں میں ہے جہاں گورنروں یا منتخب گورنروں نے نئے منصوبوں پر وقفے کا اعلان کیا یا اسے نافذ کیا ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز اور رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اس سال کے آغاز میں وفاقی پابندی کی تجویز دی تھی۔ بلومبرگ نے باخبر افراد کے حوالے سے بتایا کہ ڈچ بینک آئی این جی ڈیٹا سینٹر قرضوں کا تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا پورٹ فولیو ایک ساتھ فروخت کے لیے پیش کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ڈیموکریٹس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے الفاظ تھے: "اسٹاک مارکیٹ آج اس لیے گری کہ ڈیموکریٹس کا منگل کو بڑا دن تھا — یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، آپ خود ہی ذمہ دار ہیں!" (انگریزی سے ترجمہ) سیکسو مارکیٹس کے نیل ولسن نے کہا کہ "مندی حد سے زیادہ لگتی ہے مگر سرمایہ کار پہلے مارکیٹ کے مستحکم ہونے کا انتظار کریں گے" (انگریزی سے ترجمہ)۔

یورو اسٹوکس 50 فیوچرز تقریباً ایک فیصد نیچے تھے۔ برینٹ خام تیل 1.4 فیصد بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جبکہ ایران جنگ کے خاتمے کی امیدوں پر انتخابی نتائج کے بعد تیل پہلے گرا تھا۔ ڈالر یورو اور ین کے مقابلے میں مضبوط ہوا اور اسپاٹ گولڈ 1.1 فیصد گر کر 4,044 ڈالر فی اونس رہ گیا۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 5 نومبر کو کے ایس ای 100 175,380 پوائنٹس پر بند ہوا۔ خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو بتایا تھا کہ انڈیکس 1,454.80 پوائنٹس بڑھ کر 168,018.87 پر بند ہوا، اور 3 نومبر کو بتایا کہ تجزیہ کاروں نے اضافے کو مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت سے جوڑا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کار عالمی ٹیکنالوجی اور اے آئی شیئرز کو مارکیٹ کے عمومی رجحان کا اشارہ سمجھ کر دیکھتے ہیں۔ تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب ہونا ایندھن کے اخراجات کے لیے اہم ہے، جبکہ 5 نومبر کو پیٹرول 352.59 روپے اور ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر تھا۔ عالمی منڈی میں سونا 4,044 ڈالر فی اونس تک گرا، جو مقامی فی تولہ نرخوں پر بھی اثر ڈالتا ہے؛ 6 نومبر کو صرافہ ڈیلرز کے مطابق یہ 418,200 روپے تھا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

عالمی مارکیٹساے آئی شیئرزچپ شیئرز

اس خبر پر مزید