کے ایس ای 100 دوبارہ 168,000 پوائنٹس کی سطح پر، پی ایس ایکس میں تیزی
منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور اہم شعبوں میں خریداری جاری رہی۔ تجزیہ کاروں نے اسے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سفارتی پیش رفت سے جوڑا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دوپہر 1:19 بجے انڈیکس 1,383 پوائنٹس یعنی 0.83 فیصد بڑھ کر 167,947.06 پر تھا
- دن کی بلند ترین سطح 168,469.78 اور کم ترین 167,308.65 رہی
- بینکوں، سیمنٹ، تیل و گیس کی تلاش، او ایم سیز اور بجلی کے شعبوں میں خریداری ہوئی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو تیزی رہی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سرمایہ کار اہم شعبوں میں خریداری کرتے رہے۔
انڈیکس 1,305.39 پوائنٹس یعنی 0.78 فیصد اضافے کے ساتھ 167,869.45 پر کھلا۔ دن کی بلند ترین سطح 168,469.78 اور کم ترین سطح 167,308.65 رہی۔ دوپہر 1:19 بجے انڈیکس 167,947.06 پر تھا، جو پچھلے بند بھاؤ 166,564.06 سے 1,383 پوائنٹس یا 0.83 فیصد زیادہ ہے۔
24 نیوز ایچ ڈی ٹی وی چینل کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سفارتی پیش رفت کے باعث انڈیکس نے ابتدائی سیشن میں 168,000 پوائنٹس کی سطح دوبارہ حاصل کی۔ دوپہر 12:20 بجے یہ 167,803.00 پر تھا، یعنی 1,238.94 پوائنٹس یا 0.74 فیصد اضافہ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خریداری سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک معاشی ماہر نے کہا کہ سفارتی سرگرمی نئے سرے سے شروع ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، جو پاکستان کے درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ اور مہنگائی کے لیے اہم ہے۔
اسی ماہر نے کہا: "ساتھ ہی مارکیٹ اکتوبر بھر نیچے آئی تھی، اس لیے جو سرمایہ کار الگ بیٹھے تھے وہ اب بینکوں، ای اینڈ پیز اور سیمنٹ کے بڑے حصص میں چن کر واپس آ رہے ہیں، جہاں آمدن کے مقابلے میں قدر مناسب لگتی ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ)
خریداری آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز اور بجلی کی پیداوار میں دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک اور این بی پی سمیت بھاری وزن والے حصص مثبت زون میں رہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرہ قشم پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتیں کچھ بڑھیں، جس سے آٹھ ماہ پرانے تنازع کے مزید بڑھنے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں طویل رکاوٹ کے خدشات پیدا ہوئے۔ تاہم سرمایہ کاروں نے اسے بڑی حد تک نظرانداز کیا۔
پیر کو کے ایس ای 100 154.81 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 166,564.07 پر بند ہوا تھا۔ حکومت کے پیٹرول کی بلند درآمدی لاگت پیٹرولیم لیوی میں کمی کے ذریعے برداشت کرنے کے فیصلے کے بعد ریفائنری حصص پر دوبارہ فروخت کا دباؤ رہا۔
دوسری جانب ایشیائی تجارت کے آغاز پر جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.9 فیصد نیچے تھا، جس میں کوریا کے حصص 3.8 فیصد تک گرے۔ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہونے والی تھی۔
یہ کیوں اہم ہے
پی ایس ایکس کی حرکت پاکستان میں بہت سے لوگوں کی سرمایہ کاری، پنشن اور بچت پر اثر ڈالتی ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں ملک کے درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ اور مہنگائی سے جڑی ہیں۔


