پی ایس ایکس معمولی اضافے کے ساتھ بند، 100 انڈیکس 166,564 پر
پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 154.81 پوائنٹس یعنی 0.09 فیصد اضافے سے 166,564.07 پر بند ہوا۔ دن کے آغاز میں گراوٹ کے بعد انڈیکس میں بحالی آئی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- کے ایس ای 100 انڈیکس پیر کو 154.81 پوائنٹس بڑھ کر 166,564.07 پر بند ہوا۔
- دن کے دوران انڈیکس کی کم ترین سطح 165,776.85 اور بلند ترین 166,989.76 رہی۔
- ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 4 فیصد سے زیادہ گریں۔
- حکومتی فیصلے کے بعد تمام ریفائنریز لوئر لمٹ پر پہنچ گئیں۔
ایکسپریس ٹریبیون بزنس کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج پیر کو ابتدائی گراوٹ کے بعد بحال ہو کر معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 154.81 پوائنٹس یعنی 0.09 فیصد بڑھ کر 166,564.07 پر بند ہوا۔
کاروبار کا آغاز محتاط رہا۔ صبح 9 بج کر 34 منٹ پر انڈیکس 239.84 پوائنٹس یعنی 0.14 فیصد کمی سے 166,169.41 پر تھا۔ دوپہر 12 بج کر 29 منٹ پر یہ 632.40 پوائنٹس یعنی 0.38 فیصد گر کر 165,776.85 تک آ گیا۔ بعد میں انڈیکس 166,989.76 کی بلند ترین سطح تک پہنچا اور مثبت زون میں بند ہوا۔
ڈیلی پاکستان اردو نے بھی ملے جلے اور اتار چڑھاؤ والے کاروبار کا ذکر کیا جس کا اختتام مثبت زون میں ہوا۔ اس کے مطابق ہفتے کے پہلے کاروباری دن کے آغاز پر انڈیکس 400 سے زیادہ پوائنٹس گر کر 165,939 پر آ گیا، جبکہ اختتام 154 پوائنٹس اضافے سے 166,564 پر ہوا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پر سفارتی پیش رفت کی نئی امیدوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 4 فیصد سے زیادہ گریں۔ تیل سستا ہونے سے توانائی کی لاگت اور پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ سے متعلق خدشات کم ہوئے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق 41 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ اور 58 میں کمی ہوئی۔ انڈیکس میں اضافے میں سب سے زیادہ حصہ ماری انرجیز، فوجی فرٹیلائزر اور اینگرو ہولڈنگز کا رہا، جبکہ اٹک ریفائنری، او جی ڈی سی اور پی ایس او نے انڈیکس کو سب سے زیادہ نیچے کھینچا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول کی درآمدی لاگت میں اضافے کا اثر مقامی ریفائنریز پر منتقل کرنے کے بعد تمام ریفائنریز لوئر لمٹ پر پہنچ گئیں۔ ایکس ریفائنری پیٹرول کی قیمت 15.13 روپے بڑھ کر 282.26 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
پیٹرولیم لیوی میں 14.71 روپے اور انلینڈ فریٹ ایکوئلائزیشن مارجن میں 0.42 روپے کمی سے اس اضافے کا اثر پورا ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رہی۔
یہ کیوں اہم ہے
کے ایس ای 100 کی حرکت ان مقامی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہے جن کی بچت مارکیٹ سے جڑی ہے۔ تیل کی قیمتیں اور پیٹرول کی قیمتوں کا نیا تعین ملک کے درآمدی بل اور ریفائنریز کے حصص پر بھی اثر ڈالتا ہے۔


