ابھی ابھی
مارکیٹس2 ذرائع سے تصدیق شدہ

کے ایس ای-100 میں 1,493 پوائنٹس کی کمی، 173,887 پر بند

جمعے کو کے ایس ای-100 انڈیکس 1,493 پوائنٹس یعنی 0.85 فیصد گر کر 173,887 پر بند ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹا۔ اس کے باوجود ہفتے بھر میں انڈیکس 7,477 پوائنٹس بڑھا۔

کے ایس ای-100 میں 1,493 پوائنٹس کی کمی، 173,887 پر بند
تصویر: Arild Vågen / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • جمعے کو کے ایس ای-100 1,493 پوائنٹس (0.85 فیصد) گر کر 173,887 پر بند ہوا۔
  • ہفتہ وار بنیاد پر انڈیکس 7,477 پوائنٹس یعنی 4.49 فیصد بڑھا۔
  • تجارتی حجم 1.47 ارب شیئرز اور مالیت 22.5 ارب روپے رہی۔
1,493 پوائنٹس کمی (0.85 فیصد)جمعے کی تبدیلی
173,887اختتامی سطح
7,477 پوائنٹس (4.49 فیصد)ہفتہ وار اضافہ
22.5 ارب روپےتجارتی مالیت

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس جمعے کو ہفتے کے آخری روز 1,493 پوائنٹس یعنی 0.85 فیصد کمی کے ساتھ 173,887 پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سرمایہ کاروں نے پچھلی تیزی کے بعد منافع سمیٹا۔

سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ ہر شعبے میں رہا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا: "سرمایہ کاروں نے حالیہ اضافے کے بعد منافع سمیٹنے کا راستہ اپنایا، جبکہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے جذبات کو محتاط رکھا۔ پورے سیشن میں فروخت کا دباؤ وسیع رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس میں کمی آئی۔" (انگریزی سے ترجمہ)

جمعے کی کمی کے باوجود انڈیکس ہفتے بھر میں 7,477 پوائنٹس یعنی 4.49 فیصد بڑھا۔ ہفتے کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 176,604 اور کم ترین 165,585 رہی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ہفتہ وار بحالی کی وجہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد سرمایہ کاروں کے جذبات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کی امید کو قرار دیا۔

اخبار کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور تجارتی خسارے میں اضافے نے سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھائی۔ ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2026 میں تجارتی خسارہ 3.9 ارب ڈالر رہا۔

اکتوبر میں برآمدات 2.9 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 2.8 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 0.2 فیصد زیادہ ہیں۔ درآمدات 6.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 11.8 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 5.7 فیصد زیادہ ہیں۔

یو بی ایل، لکی، اینگرو ہولڈنگز، ایف ایف سی، پی پی ایل، او جی ڈی سی، میزان بینک، سسٹمز، این بی پی اور پی ایس او سب سے زیادہ گرنے والے حصص میں رہے اور انہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے تقریباً 966 پوائنٹس کم کیے۔

تجارتی حجم 1.47 ارب شیئرز رہا اور مجموعی مالیت 22.5 ارب روپے رہی۔ سب سے زیادہ لین دین اے پی ایل آر 1 میں ہوا جس کے 68.7 کروڑ شیئرز کا سودا ہوا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں نرمی سے مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہ سکتا ہے، تاہم منافع کی وصولی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ رہ سکتا ہے۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ کے ایس ای-100 1,454 پوائنٹس بڑھ کر 168,018.87 پر بند ہوا۔ 30 اکتوبر کو رپورٹ ہوا کہ انڈیکس 784 پوائنٹس گر کر 166,409 پر آیا اور مسلسل چار روزہ تیزی ختم ہوئی۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستانی حصص کے سرمایہ کاروں نے جمعے کو بینچ مارک انڈیکس میں حالیہ اضافے کا کچھ حصہ کھوتے دیکھا، اگرچہ ہفتہ مجموعی طور پر مثبت رہا۔ رپورٹ میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور تجارتی خسارے میں اضافے کو تشویش کی وجہ بتایا گیا ہے، جو درآمدی بل اور درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار پر اثر ڈالتے ہیں۔ اکتوبر کا 3.9 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ وہ اعداد ہیں جن پر مارکیٹ کی نظر ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پی ایس ایکسکے ایس ای-100اسٹاک مارکیٹ

اس خبر پر مزید