ابھی ابھی
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

گورنر اسٹیٹ بینک: مالی شمولیت 71 فیصد، صنفی فرق 27 فیصد رہ گیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی شمولیت 71 فیصد تک پہنچ گئی اور صنفی فرق کم ہو کر 27 فیصد رہ گیا ہے۔ وہ اسلام آباد میں چار روزہ پروگرام کے افتتاح سے خطاب کر رہے تھے۔

European Central Bank, Frankfurt, Germany
European Central Bank, Frankfurt, Germany تصویر: Norbert Nagel / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں مالی شمولیت 71 فیصد ہو گئی ہے۔
  • مالی شمولیت میں صنفی فرق کم ہو کر 27 فیصد رہ گیا ہے۔
  • اسٹیٹ بینک اور الائنس فار فنانشل انکلوژن نے اسلام آباد میں چار روزہ پروگرام شروع کیا۔
  • پروگرام میں 24 ممالک کے 38 نمائندے شریک ہیں۔
71 فیصدمالی شمولیت کی شرح
27 فیصدصنفی فرق
24شریک ممالک
38مرکزی بینکوں اور ریگولیٹرز کے نمائندے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے منگل کو کہا کہ پاکستان میں مالی شمولیت کی شرح 71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مالی شمولیت میں صنفی فرق کم ہو کر 27 فیصد رہ گیا ہے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں اسٹیٹ بینک اور الائنس فار فنانشل انکلوژن کے زیرِ اہتمام چار روزہ مشترکہ تعلیمی پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہی۔ یہ پروگرام پہلی بار پاکستان میں ہو رہا ہے۔

پروگرام میں چار براعظموں کے 24 ممالک کے مرکزی بینکوں اور مالیاتی ریگولیٹرز کے 38 نمائندے شریک ہیں۔ اس کا مقصد اداروں کو جامع گرین فنانس پالیسیوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنے اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط مالیاتی نظام بنانے میں مدد دینا ہے۔

شرکا جامع گرین فنانس پالیسیوں پر عمل درآمد، موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کی معاونت اور صنف سے متعلق رکاوٹوں سمیت عمل درآمد کی مشکلات پر تجربات کا تبادلہ کریں گے۔

جمیل احمد نے کہا: "موسمیاتی فنانس کو صرف گرین سرمایہ کاری کی معاونت سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اسے برادریوں کو خطرات کا پیشگی اندازہ لگانے، مضبوطی پیدا کرنے اور بدلتے موسم سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مدد دینی چاہیے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے مزید کہا: "کسی بھی پالیسی فریم ورک کی کامیابی کا حتمی پیمانہ اس پر عمل درآمد اور لوگوں کی زندگیوں پر اس کا اثر ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ)

2022 کے سیلاب سے تقریباً 15 ارب ڈالر کا جسمانی نقصان اور مزید 15 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ ان سے 3 کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور 22 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا۔

اسٹیٹ بینک نے 2017 میں گرین بینکنگ گائیڈ لائنز جاری کیں، 2022 میں ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا فریم ورک متعارف کرایا اور دسمبر 2025 میں موسمیاتی اسٹریس ٹیسٹنگ گائیڈ لائنز جاری کیں۔ پاکستان اپنی گرین ٹیکسونومی اور موسمیاتی خطرات کا فریم ورک اے ایف آئی نیٹ ورک کے ریگولیٹرز کے ساتھ بھی شیئر کر رہا ہے۔

خواتین کی مالی شمولیت کے لیے پاکستان ویمن انکلوسیو فنانس پروگرام کو ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت حاصل ہے۔ پاکستان 2025 میں ویمن انٹرپرینیورز فنانس کوڈ میں شامل ہوا، جس میں اسٹیٹ بینک مالیاتی صنعت کے لیے مرکزی ادارہ ہے۔ افتتاحی اجلاس سے اے ایف آئی کے اباں حق اور عالمی بینک کے آپریشنز مینیجر لاسے میلگارڈ نے بھی خطاب کیا۔

یہ کیوں اہم ہے

بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں تک رسائی عام پاکستانیوں کی بچت، رقم بھیجنے اور تنخواہ وصول کرنے کو متاثر کرتی ہے۔ صنفی فرق میں کمی کا تعلق خواتین کی رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی سے ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسٹیٹ بینک آف پاکستانمالی شمولیتگرین فنانس

اس خبر پر مزید