چار ریفائنریوں کا پٹرول کی قیمتوں کا نیا فارمولا واپس لینے کا مطالبہ
ملک کی چار بڑی ریفائنریوں نے حکومت سے پٹرول کی قیمتوں کا نظرثانی شدہ فارمولا واپس لینے کا کہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے فی لیٹر 49.02 روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- چار ریفائنریوں نے وزیر پٹرولیم کو مشترکہ خط لکھ کر موٹر سپرٹ کا نظرثانی شدہ فارمولا واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
- ان کے مطابق پالیسی سے فی لیٹر 49.02 روپے نقصان ہے۔
- وہ 31 اکتوبر 2026 سے پہلے والا نظام بحال کرانا چاہتی ہیں۔
ملک کی چار بڑی تیل ریفائنریوں نے حکومت کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام پر اعتراض کیا ہے اور اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خبر منگل کو 24 نیوز نے دی۔
یہ ریفائنریاں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، کنرجیکو پی کے لمیٹڈ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ہیں۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم کو مشترکہ خط بھیجا ہے جس میں موٹر سپرٹ، یعنی پٹرول، کے لیے نظرثانی شدہ فارمولا فوری واپس لینے کا کہا گیا ہے۔
ریفائنریوں کے مطابق اس پالیسی سے فی لیٹر 49.02 روپے کا مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی کاروباری بقا اور شعبے کو جدید بنانے کے 6 ارب ڈالر کے منصوبے کو خطرہ ہے۔
ریفائنریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے 30 اکتوبر کو موٹر سپرٹ کی قیمتوں کا فارمولا ان سے مشاورت کے بغیر تبدیل کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صنعت کے عہدیدار بھی کہتے ہیں کہ پالیسی پیشگی مشاورت کے بغیر بدلی گئی۔
حکومت نے کہا ہے کہ یہ تبدیلی امریکا اور ایران کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں سے صارفین کو بچانے کے لیے کی گئی۔
ریفائنریوں نے 7 مارچ 2026 کو متعارف کرایا گیا فارمولا بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ 31 اکتوبر 2026 سے پہلے رائج نظام واپس لایا جائے۔ ان کے خیال میں نیا نظام سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ہے اور ریفائنریوں کی توسیع و اصلاح کے جاری منصوبوں میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔
نوائے وقت کی کراچی سے کامرس رپورٹ کے مطابق اٹک، نیشنل اور پاکستان ریفائنری سمیت چار ریفائنریوں نے قیمتوں کے نئے نظام پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ اخبار کی سرخی میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈیلرز آڈٹ چاہتے ہیں۔ پرو پاکستانی نے اس تنازع کو پٹرول پر 49 روپے کے لیوی فرق کا معاملہ قرار دیا۔ خبروں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حکومت نے خط کا کوئی جواب دیا ہے یا نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
قیمتوں کا نظام طے کرتا ہے کہ موٹر سواروں اور ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کو پٹرول کے لیے کتنی رقم دینی پڑتی ہے، اور یہ تنازع حکومت اور پٹرول فراہم کرنے والی ریفائنریوں کے درمیان ہے۔



