پاکستان پوسٹ بھرتیاں: نیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو طلبی نوٹس
نیب نے سابق وفاقی وزیرِ مواصلات اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر 10 نومبر کو طلب کیا ہے۔ ایف آئی اے کے انسدادِ بدعنوانی سرکل اسلام آباد نے بھی انہیں اسی معاملے میں طلب کیا ہے۔

- نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر کو صبح 11 بجے طلب کیا ہے۔
- تحقیقات 2022 سے 2023 تک ان کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ کی بھرتیوں سے متعلق ہیں۔
- ایف آئی اے کے انسدادِ بدعنوانی سرکل اسلام آباد نے بھی انہیں طلب کیا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وفاقی وزیرِ مواصلات اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلب کیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بھی انہیں اسی معاملے میں طلب کر رکھا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیب راولپنڈی نے بدھ کو نوٹس جاری کیا جس میں اسعد محمود سے کہا گیا ہے کہ وہ 10 نومبر کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔ یہ تحقیقات 2022 سے 2023 کے دوران ان کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہیں۔
نوٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3,938 اسامیاں پُر کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن مبینہ طور پر 4,252 افراد بھرتی کیے گئے۔ 24 نیوز کے مطابق چینل کے پاس موجود دستاویزات میں یہی اعداد سامنے آئے ہیں۔
نیب کا یہ بھی الزام ہے کہ 2,646 بھرتیاں ختم کی جا چکی اسامیوں پر کی گئیں، جو کابینہ کمیٹی کی ہدایات کے خلاف ہے۔ نوٹس کے مطابق ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے کنٹریکٹ پر بھرتی کی سفارش کے باوجود مستقل تقرریاں کی گئیں، جس سے محکمہ ڈاک پر مالی بوجھ بڑھا۔
نوٹس میں جعلی اور بوگس دستاویزات، عمر کی بالائی حد سے زیادہ امیدواروں کی بھرتی اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی شامل ہیں۔
نیب نے خبردار کیا ہے کہ تعمیل نہ کرنے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایف آئی اے کا انسدادِ بدعنوانی سرکل اسلام آباد بھی پاکستان پوسٹ کی بھرتیوں کی الگ تحقیقات کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کا نوٹس 30 اکتوبر کو بھیجا گیا تھا اور اسعد محمود سے 2 نومبر کو صبح 11 بجے بیان ریکارڈ کرانے کو کہا گیا تھا۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ پیش ہوئے یا انہوں نے کیا جواب دیا۔ یہ نوٹس میں درج الزامات ہیں، کوئی ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ معاملہ ایک وفاقی سرکاری محکمے میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ہے، جو سرکاری بھرتیوں پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔



