انسانی حقوق پر خدشات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں زیر بحث
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ انسانی حقوق کے خدشات سے یورپی یونین کے ساتھ ترجیحی تجارتی رسائی غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو فوری خطرہ نہیں۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- کمیٹی چیئرمین سید نوید قمر نے انسانی حقوق پر یورپی یونین کے منفی اشاروں کی بات کی۔
- حکومت کے مطابق جی ایس پی پلس کو فوری خطرہ نہیں اور یہ دسمبر 2028 تک جاری رہے گا۔
- 2024 میں پاکستان نے ترجیحی ٹیرف کے تحت یورپی یونین کو 7.5 ارب یورو کی برآمدات کیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو منگل کے روز بتایا گیا کہ انسانی حقوق کی صورتحال پر خدشات کے باعث یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی ترجیحی تجارتی رسائی غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے یہ انتباہ کیا، تاہم انہوں نے ان خدشات کی تفصیل نہیں بتائی۔
منٹ مرر کے مطابق سید نوید قمر نے کہا: "ہمیں اشارے مل رہے ہیں کہ انسانی حقوق کے مسائل کی وجہ سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس خطرے میں ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں۔
حکام کے مطابق موجودہ جی ایس پی پلس انتظام دسمبر 2028 تک برقرار ہے۔ بلال کیانی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسکیم تب تک جاری رہے گی۔ نائب وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی جنوری 2029 سے شروع ہونے والی نئی اسکیم کے لیے پاکستان کی درخواست تیار کر رہی ہے۔ منٹ مرر کے مطابق نظرثانی شدہ جی ایس پی فریم ورک 2027 میں نافذ ہونا ہے۔
پاکستان یورپی یونین کے جی ایس پی پلس انتظام کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔ 2024 میں پاکستان نے ترجیحی ٹیرف کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک کو 7.5 ارب یورو مالیت کی برآمدات کیں۔
یورپی یونین کی پانچویں نگرانی رپورٹ میں مستفید ممالک میں 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ جبری گمشدگیوں اور اظہار رائے کی پابندیوں کے بڑھتے رجحانات کو روکا جائے، اور توہین مذہب، سائبر کرائم بشمول پیکا، ہتک عزت، انسداد دہشت گردی اور بغاوت سے متعلق قوانین میں ترمیم یا انہیں منسوخ کیا جائے۔
یورپی یونین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب، تشدد کے خاتمے، جیلوں میں اصلاحات اور سزائے موت کے مقدمات میں بہتری کو آئندہ ترجیحات قرار دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق رپورٹ میں بنیادی آزادیوں اور عدالتی نظام کی کمزوری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، اور کہا گیا کہ 2023 سے 2025 کے دوران پاکستان کو ذمہ داریوں پر عمل میں مشکلات رہیں۔
پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش کے وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات پر اثرات اٹھائے۔ بلال کیانی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پار تجارت متاثر ہوئی ہے، لیکن سرحدیں قومی سلامتی کے باعث بند کی گئیں۔
کمیٹی نے تاجروں کی رجسٹریشن اسکیم کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری سے ان تاجروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو اسکیم میں شامل نہیں ہوئے، سوائے 222 شرکاء کے۔
یہ کیوں اہم ہے
2024 میں پاکستان کی یورپی یونین کو تقریباً 7.5 ارب یورو کی برآمدات ترجیحی ٹیرف پر منحصر تھیں، اس لیے جی ایس پی پلس میں کسی تبدیلی کا اثر برآمد کنندگان اور ان سے وابستہ کاروبار پر پڑے گا۔


