تحقیق: پوٹاشیم والا نمک سالانہ تقریباً 30 لاکھ اموات روک سکتا ہے
محققین کے اندازے کے مطابق پوٹاشیم والے نمک پر منتقلی سے دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 30 لاکھ اموات اور دل و گردے کے 1 کروڑ سے زائد نئے کیسز روکے جا سکتے ہیں۔ یہ تحقیق دی جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی ہے اور نیچر ہیلتھ میں شائع ہوئی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- محققین نے 193 ممالک میں پوٹاشیم والے نمک پر منتقلی کا جائزہ لیا۔
- ان کے اندازے کے مطابق ہر سال 29 لاکھ 60 ہزار اموات اور 1 کروڑ 17 ہزار سے زائد نئے کیسز روکے جا سکتے ہیں۔
- مصنفین کے مطابق گردوں کے سنگین مرض یا مخصوص ادویات استعمال کرنے والوں کو احتیاط کرنی ہوگی۔
آسٹریلیا میں دی جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کے محققین کے مطابق دنیا کا نمک پوٹاشیم والے نمک سے بدلنے پر ہر سال تقریباً 30 لاکھ اموات روکی جا سکتی ہیں۔ نیچر ہیلتھ میں شائع اس تحقیق میں 193 ممالک میں فوائد کا جائزہ لیا گیا۔
یورونیوز کے مطابق درست اندازہ ہر سال 29 لاکھ 60 ہزار اموات اور دل اور گردوں کی دائمی بیماری کے 1 کروڑ 17 ہزار نئے کیسز کا ہے۔ پوٹاشیم والے نمک میں عام نمک کے سوڈیم کلورائیڈ کا کچھ حصہ پوٹاشیم کلورائیڈ سے بدل دیا جاتا ہے۔
تحقیق میں فرضی منظرنامے دیکھے گئے، جن میں پوری دنیا کا نمک بدلنے سے لے کر صرف ان لوگوں میں استعمال تک شامل ہے جن کے بلند فشارِ خون کی تشخیص ہو چکی ہے اور علاج جاری ہے۔ محدود ترین تبدیلی میں بھی نمایاں فوائد سامنے آئے۔
یورونیوز کے مطابق صرف گھریلو نمک بدلنے سے سالانہ تقریباً 18 لاکھ 50 ہزار اموات اور 61 لاکھ 90 ہزار کیسز روکے جا سکتے ہیں۔ پراسیس شدہ اور ریستورانوں کے کھانوں کا نمک بدلنے سے مزید 15 لاکھ 60 ہزار اموات اور 54 لاکھ 60 ہزار کیسز روکے جا سکتے ہیں۔
ممالک کے لحاظ سے مکمل تبدیلی سے چین میں سالانہ تقریباً 10 لاکھ 80 ہزار اموات روکی جا سکتی ہیں، جبکہ بھارت میں تقریباً 4 لاکھ۔ برطانیہ میں یہ تعداد تقریباً 13 ہزار اموات اور قریباً 60 ہزار کیسز سالانہ ہے۔
مصنف بروس نیل نے کہا: "بہت زیادہ سوڈیم اور کم پوٹاشیم لینا بلند فشارِ خون کی معروف وجوہات ہیں، جو فالج، دل کے دورے اور گردوں کی بیماری جیسے جان لیوا امراض کا بڑا خطرہ ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے کہا کہ پوٹاشیم والا نمک دونوں مسائل کو ایک ساتھ حل کرتا ہے۔
محققین نے بعض گروہوں کے لیے خطرات کی نشاندہی بھی کی۔ گردوں کے سنگین مرض میں مبتلا افراد اور وہ لوگ جو پوٹاشیم بڑھانے والی ادویات لیتے ہیں، ہائپرکلیمیا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وویک جھا نے کہا: "اس گروہ کے خطرات کو مریضوں کی تعلیم، مصنوعات پر لیبلنگ اور طبی نگرانی کے ذریعے مؤثر طور پر سنبھالا جا سکتا ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) تحقیق کے مطابق گردوں کی سنگین بیماری کے مریضوں میں بھی فوائد خطرات سے زیادہ ہیں۔
نیل کے مطابق یورپ اور شمالی امریکہ کی خوراک کی صنعت، جہاں 70 فیصد سے زائد نمک پراسیس شدہ اور ریستورانوں کے کھانوں سے آتا ہے، کا شامل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلب پوری کرنے کے لیے پوٹاشیم کلورائیڈ کی پیداوار بڑھانا پڑ سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 2025 میں بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کا خطرہ کم کرنے کے لیے پوٹاشیم والے نمک کی توثیق کی تھی۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں زیادہ نمک کا استعمال اور دل کی بیماریاں بڑا صحتی بوجھ ہیں، اس لیے یہ نتائج مقامی غذا سے متعلق ہیں۔ تحقیق کے مطابق مکمل تبدیلی سے صرف بھارت میں سالانہ تقریباً 4 لاکھ اموات روکی جا سکتی ہیں۔



