افریقہ میں ایبولا سے 5,376 اموات، افریقہ سی ڈی سی
افریقہ سی ڈی سی کے مطابق بنڈی بوگیو ایبولا وبا سے 5,376 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً سب ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ہیں۔ مئی سے اب تک 10 ہزار سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- افریقہ سی ڈی سی کے مطابق 5,376 اموات ہوئیں، 5,372 کانگو میں۔
- 10,444 کیسز کی تصدیق، شرحِ اموات 50 فیصد سے زیادہ۔
- یوگنڈا، کینیا اور نائجیریا میں بھی کیسز سامنے آئے۔
- بنڈی بوگیو قسم کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔
افریقی یونین کی صحت ایجنسی افریقہ سی ڈی سی نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ افریقہ میں ایبولا کی تازہ وبا سے 5,376 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 5,372 اموات ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں اور دو دو کینیا اور یوگنڈا میں ہوئیں۔
یہ وبا نایاب بنڈی بوگیو قسم کے وائرس سے پھیلی ہے۔ اب تک 10,444 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور شرحِ اموات 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ کانگو نے مئی کے وسط میں ایبولا کی اپنی 17ویں وبا کا اعلان کیا تھا، جسے الجزیرہ نے ملک کی سب سے بڑی وبا قرار دیا۔
یوگنڈا میں 20 کیسز سامنے آئے، جن میں تقریباً سب کانگو سے سفر کر کے آنے والے افراد تھے، اور اگست میں اسے ایبولا سے پاک قرار دیا گیا۔ کینیا میں اکتوبر میں نو افراد متاثر ہوئے اور دو اموات ہوئیں۔ ملک میں ایبولا کے یہ پہلے کیسز ہیں۔
نائجیریا نے اکتوبر میں اپنا پہلا درآمد شدہ کیس رپورٹ کیا، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں پہلا کیس ہے۔ یہ 42 سالہ سوئس خاتون کا کیس ہے جن کے شوہر ابوجا میں سوئس سفارت خانے میں کام کرتے ہیں۔ دونوں یوگنڈا گئے تھے اور واپس نائجیریا آئے۔ کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔
الجزیرہ کے مطابق نائجیریا کے صحت حکام نے بتایا کہ شمال مشرق میں دو مشتبہ کیسز کے دو دو بار ٹیسٹ منفی آئے۔ اس کے مطابق فرانس نے جولائی میں ایک کیس رپورٹ کیا تھا جو کانگو سے لوٹنے والے ایک صحت کارکن کا تھا۔
بنڈی بوگیو قسم کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج نہیں ہے۔ یورونیوز کے مطابق ایروبو ویکسین، جو زائر قسم کے خلاف مؤثر ہے، کے کلینیکل ٹرائل حالیہ ہفتوں میں شروع ہوئے ہیں۔
ایبولا جسمانی رطوبتوں کے رابطے سے پھیلتا ہے اور ہیمرجک بخار کا سبب بنتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
اس وبا پر عالمی سطح پر نظر ہے اور یہ کئی ممالک میں پھیل چکی ہے، جس سے سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے سفری اور صحت کی جانچ کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔



