امریکا نے لینا کاپاویر ایچ آئی وی انجکشن کا پہلا جینرک 40 ڈالر سالانہ پر منظور کر لیا
امریکی ایف ڈی اے نے سال میں دو بار لگنے والے ایچ آئی وی سے بچاؤ کے انجکشن لینا کاپاویر کے پہلے جینرک ورژن کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بھارت کی ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز نے بنایا ہے اور 120 کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں 40 ڈالر فی شخص سالانہ میں دستیاب ہوگا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- ایف ڈی اے نے سال میں دو بار لگنے والے لینا کاپاویر کے پہلے جینرک کی منظوری دی
- جینرک کی قیمت 40 ڈالر فی شخص سالانہ ہے، جبکہ امریکا میں گیلیڈ کا برانڈ 28 ہزار ڈالر سے زیادہ میں ملتا ہے
- 120 کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں دستیاب ہوگا؛ زیمبیا کو سب سے پہلے ملنے کی توقع ہے
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے لینا کاپاویر کے پہلے جینرک ورژن کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ایچ آئی وی سے بچاؤ کا انجکشن ہے جو سال میں دو بار لگتا ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اسے بھارت کی ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز نے تیار کیا ہے۔
جینرک کی قیمت 40 ڈالر فی شخص سالانہ ہوگی۔ گیلیڈ سائنسز کا برانڈڈ ورژن امریکا میں 28 ہزار ڈالر سالانہ سے زیادہ کا ہے۔ یہ موجودہ شراکت داری کے تحت 120 کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں دستیاب ہوگا، جو یونیٹیڈ، کلنٹن ہیلتھ ایکسیس انیشی ایٹو اور وٹس آر ایچ آئی نے طے کروائی تھی۔
زیمبیا کو 2026 کے اختتام سے پہلے سب سے پہلے سپلائی ملنے کی توقع ہے۔ یونیٹیڈ کو امید ہے کہ سپلائی یکم دسمبر کو ایڈز کے عالمی دن تک پہنچ جائے گی۔
یہ منظوری گیلیڈ کے اصل ورژن کی منظوری کے تقریباً 16 ماہ بعد آئی ہے۔ یہ منظوری اس لیے ضروری تھی کہ امریکی فنڈنگ سے خریدی جانے والی ایچ آئی وی کی ادویات کو امریکی ریگولیٹر سے منظور ہونا لازم ہے۔ اس سے دوسرے ممالک اور عالمی ادارۂ صحت کو بھی اپنی منظوریاں تیز کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
گیلیڈ لینا کاپاویر کی واحد سپلائر تھی اور غریب ممالک کو صرف تھوڑی مقدار سستے داموں دیتی تھی۔ اس نے چھ جینرک کمپنیوں کو رضاکارانہ لائسنس دیے اور یونیٹیڈ نے ڈاکٹر ریڈیز کو منتخب کیا۔ گیلیڈ کے لائسنسوں میں وہ ممالک شامل نہیں جن میں دنیا کے کم از کم 10 فیصد انفیکشن ہیں، جن میں برازیل بھی ہے۔
یونیٹیڈ کے مطابق اب تک 175,000 افراد کو ایک خوراک لگ چکی ہے۔ ایسواتینی کے معالجین نے بتایا کہ انجکشن ختم ہو چکے ہیں اور مانگ زیادہ ہے۔ یونیٹیڈ میں ایچ آئی وی کی سربراہ کارمن پیریز کاساس نے کہا: "صرف گیلیڈ کے ساتھ ہم اس مانگ کو پورا کر ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ کافی مقدار میں نہیں بنا رہی" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "یہ ذریعہ واقعی امید دلاتا ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔
ہر سال تقریباً 12 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوتے ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی امداد میں کٹوتیوں سے ایچ آئی وی کے خلاف اقدامات کو اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ امریکی حکومت اور گلوبل فنڈ نے 2028 تک 30 لاکھ افراد تک پہنچنے کا عزم کیا ہے، جبکہ ماہرین کے اندازے میں وبا پر قابو پانے کے لیے تقریباً 2 کروڑ افراد کو پری ای پی پر ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ لینا کاپاویر 2030 تک ایڈز کی وبا ختم کرنے کے ہدف میں کلیدی ہو سکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ایچ آئی وی سے بچاؤ کا سستا اور منظور شدہ متبادل پاکستان کے صحت کے نظام اور اس سے وابستہ افراد کے لیے اہم ہے۔ ایف ڈی اے کی منظوری سے دوسرے ممالک اور عالمی ادارۂ صحت کو بھی اپنی منظوری تیز کرنے کی سہولت ملتی ہے۔



