اوورسیز پاکستانی پاکستانی سِم کے بغیر ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹ کھول سکیں گے
جے ایس بینک کے تعاون سے چلنے والے زندگی نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے زندگی اوورسیز اکاؤنٹس متعارف کرا دیے ہیں۔ اہل افراد پاکستانی موبائل نمبر یا برانچ جائے بغیر اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- جے ایس بینک کے تعاون سے چلنے والے زندگی نے زندگی اوورسیز اکاؤنٹس شروع کیے۔
- درخواست گزار اپنے بین الاقوامی واٹس ایپ نمبر سے رجسٹر ہو کر آئی بیان والا اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔
- یہ سہولت پاکستان اوریجن کارڈ، نائیکوپ یا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ رکھنے والوں کے لیے ہے۔
جے ایس بینک کے تعاون سے چلنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارم زندگی نے زندگی اوورسیز اکاؤنٹس کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پاکستانی موبائل نمبر کے بغیر اور بینک برانچ گئے بغیر مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھول اور چلا سکتے ہیں۔
اہل صارفین اپنے بین الاقوامی واٹس ایپ نمبر کے ذریعے رجسٹر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آئی بیان سے منسلک بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے کئی مالی لین دین دور بیٹھے کر سکتے ہیں۔
زندگی ایپ کے ذریعے اکاؤنٹ ہولڈرز پاکستان کے اندر رقم منتقل کر سکتے ہیں، اہلِ خانہ کی مالی مدد کر سکتے ہیں اور سپورٹ کیے جانے والے یوٹیلیٹی بل ادا کر سکتے ہیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق یہ سروس ان پاکستانیوں کے لیے ہے جو بیرونِ ملک سے باقاعدگی سے رشتہ داروں کو رقم بھیجتے ہیں یا گھریلو اخراجات ادا کرتے ہیں۔
یہ سہولت پاکستان اوریجن کارڈ، نائیکوپ یا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ رکھنے والے پاکستانیوں کو دستیاب ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق صارفین قابلِ اطلاق ضوابط کے تحت نان ریزیڈنٹ اکاؤنٹ ریپیٹری ایبل اور نان ریزیڈنٹ اکاؤنٹ نان ریپیٹری ایبل میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق اس سے پہلے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مقامی سِم کی شرط اور اکاؤنٹ کی تصدیق کے طریقۂ کار کی وجہ سے ڈیجیٹل بینکنگ میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ نئی سروس نے مقامی موبائل نمبر اور برانچ جانے کی دونوں رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔
زندگی کے شریک بانی اور چیف آفیسر نعمان اظہر نے کہا کہ اوورسیز اکاؤنٹس ادارے کے اس وژن کا حصہ ہیں کہ ہر پاکستانی کے لیے بینکنگ آسان اور قابلِ رسائی ہو۔ ان کے مطابق جغرافیائی سرحدیں مالی خدمات تک رسائی میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہئیں، اور یہ سہولت بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اپنے وطن سے مالی طور پر جڑا رکھنے میں مدد دے گی।
بزنس ریکارڈر نے اس اجرا کو زندگی کی اس کوشش کا ایک اور قدم قرار دیا جس کا مقصد دنیا بھر کے پاکستانیوں کے لیے بینکاری کو آسان، قابلِ رسائی اور سرحدوں سے آزاد بنانا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
اوورسیز پاکستانی اور ان کے اہلِ خانہ اس نئی سہولت سے رقم اور ترسیلاتِ زر کا انتظام زیادہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔ بیرونِ ملک اکاؤنٹ ہولڈر ایک ہی ایپ سے یوٹیلیٹی بل ادا کر سکتے ہیں اور پاکستان میں رشتہ داروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ مقامی سِم اور برانچ جانے کی شرط ختم ہونے سے وہ رکاوٹیں دور ہوتی ہیں جو ڈیلی پاکستان کے مطابق پہلے ڈیجیٹل بینکنگ کو مشکل بناتی تھیں۔



