کیو ایس ایشیا رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 90 جامعات شامل
کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 90 جامعات شامل ہیں۔ نسٹ سرفہرست پاکستانی ادارہ ہے اور جنوبی ایشیا میں آئی آئی ٹی دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

- کیو ایس ایشیا رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 90 جامعات شامل ہیں۔
- نسٹ پاکستانی اداروں میں پہلے اور جنوبی ایشیا میں آئی آئی ٹی دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
- قائداعظم یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں دسویں نمبر پر ہے، یوں پہلے دس میں پاکستان کے دو ادارے ہیں۔
کیو ایس (کواکوریلی سائمنڈز) کے مطابق کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 90 جامعات شامل ہوئی ہیں۔ کیو ایس کی سرکاری ویب سائٹ پر پاکستان کے لحاظ سے فلٹر کرنے پر 90 ادارے سامنے آتے ہیں۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) پاکستانی اداروں میں سرفہرست ہے، اس کے بعد قائداعظم یونیورسٹی اور لمز ہیں۔ ٹیک جوائس کے مطابق نسٹ ایشیا میں 76ویں نمبر پر ہے۔ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور پنجاب یونیورسٹی بھی پاکستان کی پانچ بلند ترین رینک والی جامعات میں شامل ہیں۔
جنوبی ایشیا کی ذیلی علاقائی فہرست میں نسٹ آئی آئی ٹی دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر رہی۔ قائداعظم یونیورسٹی دسویں نمبر پر آئی اور یوں اس پہلے دس میں پاکستان کا دوسرا ادارہ بنی۔ اس فہرست میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، ایران اور مالدیپ کی جامعات شامل ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یونیورسٹی آف سوات ایشیا میں 771ویں، جنوبی ایشیا میں 229ویں اور پاکستان میں 59ویں نمبر پر رہی۔ وہ خیبر پختونخوا کی جامعات میں نویں نمبر پر ہے۔
ایشیا کی فہرست میں ہانگ کانگ یونیورسٹی بدستور سرفہرست رہی۔ پیکنگ یونیورسٹی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سنگھوا یونیورسٹی نویں سے تیسرے نمبر پر آ گئی۔ سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ اور چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ نے پہلے پانچ کی فہرست مکمل کی۔
کیو ایس جامعات کو 11 اشاریوں پر پرکھتا ہے۔ تعلیمی ساکھ کا وزن 30 فیصد اور آجروں میں ساکھ کا 20 فیصد ہے۔ اساتذہ اور طلبہ کا تناسب، بین الاقوامی تحقیقی نیٹ ورک اور فی مقالہ حوالے ہر ایک کا 10 فیصد ہیں۔ فی استاد تحقیقی مقالے اور پی ایچ ڈی سطح کے عملے کا تناسب 5، 5 فیصد ہیں، جبکہ باقی 10 فیصد غیر ملکی اساتذہ، غیر ملکی طلبہ اور طلبہ کے تبادلے سے آتے ہیں۔
منٹ مرر کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کیو ایس عالمی رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 18 جامعات شامل ہیں، جو 2020 میں سات تھیں۔ کیو ایس کی تمام فہرستوں میں پاکستانی جامعات کی تعداد 2020 میں 29 سے بڑھ کر 2026 میں 83 ہو گئی۔ دو پاکستانی جامعات دنیا کی پہلی 500 اور 22 پہلی 1000 میں ہیں۔
کمیشن نے رینکنگ کے طریقہ کار کی وضاحت اور کمزور شعبوں کی نشاندہی کے لیے کمیٹی بنائی ہے اور اصلاحات کے لیے 20 ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔ وہ نصاب میں مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ کی تعلیم شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اساتذہ کے لیے مفت تربیت کا اعلان کیا ہے۔ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ "مقصد صرف بہتر اعداد نہیں بلکہ پائیدار معیار ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں جامعات کا انتخاب کرنے والے طلبہ اور خاندان درخواست دیتے وقت ایسی رینکنگ دیکھتے ہیں۔ فہرست سے پتا چلتا ہے کہ نسٹ، قائداعظم یونیورسٹی، لمز، کامسیٹس اور پنجاب یونیورسٹی جیسے ادارے ایشیا میں کہاں کھڑے ہیں۔ اس میں وہ اشاریے بھی درج ہیں جو کیو ایس استعمال کرتا ہے، جن میں تعلیمی اور آجروں میں ساکھ کا وزن سب سے زیادہ ہے۔



