ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسرائیلی صدر کی گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ کو نئی حکومت بنانے کی پہلی کوشش کے لیے چن لیا ہے۔ انہیں 120 نشستوں کی پارلیمان میں 61 ووٹ حاصل کرنے کے لیے 28 دن ملیں گے۔

اسرائیلی صدر کی گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت
تصویر: Chezki Mozes / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • ہرزوگ کے دفتر نے ہفتے کی شام فیصلے کا اعلان کیا، اتوار کو باضابطہ تقریب ہوگی۔
  • آئزن کوٹ کے پاس 61 ووٹ حاصل کرنے کے لیے 28 دن ہیں، 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔
  • اکتوبر میں نیتن یاہو کے کیمپ نے 53، آئزن کوٹ کے اتحاد نے 48 اور عرب جماعتوں نے 19 نشستیں جیتیں۔
28 دنحکومت سازی کی مدت
120 میں سے 61درکار ووٹ
48آئزن کوٹ کے اتحاد کی نشستیں
53نیتن یاہو کے کیمپ کی نشستیں

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کو نئی حکومت بنانے کا پہلا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہرزوگ کے دفتر نے ہفتے کی شام جاری بیان میں کہا کہ انہیں حکومت سازی کی ذمہ داری سونپنے کا ارادہ ہے۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق آئزن کوٹ کو فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں صدر کی رہائش گاہ مدعو کیا جائے گا جہاں اتوار کو باضابطہ تقریب ہوگی۔

آئزن کوٹ وسط پسند جماعت یشار کے سربراہ ہیں اور نیتن یاہو مخالف اتحاد کی قیادت کرتے ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے انہیں 61 ووٹ درکار ہوں گے اور اس کے لیے 28 دن ملیں گے۔ یورونیوز کے مطابق صدر زیادہ سے زیادہ 14 دن کی توسیع دے سکتے ہیں، اس کے بعد ذمہ داری کسی اور کو دی جائے گی۔

اکتوبر کے انتخابات میں کسی فریق کو اکثریت نہیں ملی۔ آئزن کوٹ کی قیادت میں صہیونی جماعتوں کے اتحاد نے 120 میں سے 48 نشستیں جیتیں، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے کیمپ نے 53 نشستیں حاصل کیں۔ اسرائیل کی عرب جماعتوں نے 19 نشستیں جیتیں۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق نیتن یاہو کا مذہبی قوم پرست اتحاد سب سے بڑا بلاک ہونے کے باوجود اکثریت کھو بیٹھا۔ انتخابات سے پہلے دونوں کیمپوں نے عرب جماعتوں پر انحصار نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ نیتن یاہو نے ان کے ساتھ مل کر اکثریت حاصل کرنے کو مسترد کر دیا۔

اس ہفتے دونوں عرب اکثریتی فہرستوں نے آئزن کوٹ کو اگلا وزیر اعظم بنانے کی سفارش کا اعلان کیا۔ این پی آر کے مطابق اسرائیل کی اہم جماعتوں نے بھی ان کے حق میں سفارش کی ہے۔

ڈی ڈبلیو نے کہا کہ مشکل اتحادی مذاکرات متوقع ہیں۔ اگر کوئی امیدوار کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل غالباً نئے انتخابات کی طرف جائے گا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق اسحاق رابن کی حکومت 1995 میں ان کے قتل تک اپوزیشن سے عرب جماعتوں کے ووٹوں پر انحصار کرتی رہی، اور عرب جماعت رعام 2021 سے 2022 تک نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کی اتحادی حکومت کا حصہ تھی۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 7 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ عرب قیادت والی جماعتوں کی حمایت کے بعد آئزن کوٹ کو ارکان کی 67 سفارشات مل گئی تھیں اور ہرزوگ اتوار 8 نومبر کو اپنے انتخاب کا اعلان کریں گے۔

یہ کیوں اہم ہے

اسرائیل میں حکومت سازی غزہ اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متعلق پالیسی پر اثر ڈالتی ہے، جسے پاکستان میں بہت سے لوگ قریب سے دیکھتے ہیں۔ اگلی اسرائیلی حکومت کی قیادت کون کرے گا، خطے کی پیش رفت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے اہم ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسرائیلگادی آئزن کوٹنیتن یاہو

اس خبر پر مزید