کراچی: وزیراعلیٰ ہاؤس مارچ پر پولیس کی رکاوٹ، پرائمری اساتذہ حراست میں
سندھ بھر کے پرائمری اساتذہ کو کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ سے پولیس نے روک دیا۔ کئی افراد حراست میں لیے گئے اور تنظیم کے مطابق احتجاج جاری رہے گا۔

- پولیس نے مارچ روکنے کے لیے واٹر کینن استعمال کیا، منٹ مرر کے مطابق آنسو گیس بھی چلائی گئی۔
- کئی اساتذہ حراست میں لیے گئے، ایکسپریس نیوز کے مطابق بعد میں رہا کر دیے گئے۔
- اساتذہ سروس اسٹرکچر، تقرری کی تاریخ سے مستقل ملازمت اور ضلعی سطح پر تبادلے چاہتے ہیں۔
- تنظیم کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
کراچی میں بدھ کو سندھ کے مختلف اضلاع سے آئے پرائمری اسکول اساتذہ کا احتجاج اس وقت کشیدہ ہو گیا جب پولیس نے انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ سے روکا۔ منٹ مرر کے مطابق پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیا، جبکہ ایکسپریس نیوز کے مطابق واٹر کینن، لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی۔
احتجاج پرائمری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن نے منظم کیا اور اس کا آغاز کراچی پریس کلب کے باہر دھرنے سے ہوا۔ بعد میں اساتذہ نے وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ کارروائی کے دوران کئی مظاہرین حراست میں لیے گئے، اور ایکسپریس نیوز کے مطابق انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کئی اساتذہ زخمی ہوئے اور ایک کو اسپتال لے جانا پڑا۔
پریس کلب کے اردگرد کئی سڑکیں گاڑیوں کے لیے بند کر دی گئیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق سر سید روڈ بند تھی اور ٹریفک کو ایوانِ صدر روڈ اور زینب مارکیٹ کی طرف موڑا گیا۔ منٹ مرر کے مطابق قریبی دفاتر کے ملازمین کو بھی مشکل پیش آئی۔
اساتذہ کے مطالبات میں سروس اسٹرکچر کی بحالی اور پے اسکیل میں اضافہ شامل ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ملازمت پہلی تقرری کی تاریخ سے مستقل شمار ہو، کیونکہ ابتدائی تین سالہ کنٹریکٹ مدت شمار نہیں کی گئی۔ وہ تبادلے سندھ سیکرٹریٹ کے بجائے ضلعی سطح پر چاہتے ہیں اور کلسٹر ہب پالیسی ختم کرنے اور چھوٹے سرکاری اسکولوں کو بڑے اداروں میں ضم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن حیدرآباد کی شبینہ خان نے کہا کہ اساتذہ اگست سے تحریک چلا رہے تھے، یہ احتجاج اچانک نہیں تھا اور حکومت کو 14 مطالبات پہلے ہی دیے جا چکے تھے۔ ان کے مطابق کچھ پرائمری اساتذہ گریڈ 9، 14 اور 16 میں ہیں جبکہ ہائی اسکول اساتذہ کو ترقی کے مواقع اور باقاعدہ ڈی پی سی اجلاس ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم سردار شاہ نے 5 اکتوبر کو پرائمری اساتذہ کو گریڈ 20 تک ترقی دینے کی خواہش ظاہر کی، مگر پہلے سروس اسٹرکچر دینا ہوگا۔
استاد کوثر نے الزام لگایا کہ پولیس نے اساتذہ پر شدید شیلنگ کی اور تنظیم کے مرکزی صدر اعجاز علی چنڈیو کو حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قیادت رہا نہیں ہوتی اور مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، اساتذہ واپس نہیں جائیں گے اور اسکول بھی نہیں کھولیں گے۔ مظاہرین نے حیدرآباد کے تاریخی فردوس پرائمری اسکول کو ہائر سیکنڈری اسکول میں ضم کرنے پر بھی اعتراض کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے بعد مظاہرین قیادت کے ساتھ پریس کلب کے باہر کیمپ میں بیٹھ گئے اور وکلا نے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے مطالبات پر توجہ دینے تک احتجاج جاری رہے گا اور تسلی بخش جواب کے بغیر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
یہ کیوں اہم ہے
سندھ بھر کے پرائمری اساتذہ اس احتجاج میں شامل ہیں، اور کوثر نے کہا کہ قیادت کی رہائی اور مطالبات پر پیش رفت تک اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔ اس سے صوبے میں تدریس متاثر ہو سکتی ہے۔ چھوٹے سرکاری اسکولوں کے انضمام اور کلسٹر ہب پالیسی کا تنازع بھی سندھ میں سرکاری اسکولوں کے نظام سے جڑا ہے۔



