انطالیہ میں کوپ 31 شروع، گوتیرش کی خبردار: یہ 'حقیقت کا لمحہ' ہے
اقوام متحدہ کی 31ویں موسمیاتی کانفرنس ترکی کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر تک جاری رہے گی۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گلوبل وارمنگ کے خلاف اقدامات کے لیے اسے نازک لمحہ قرار دیا ہے۔

- کوپ 31 انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر تک ہوگی اور مذاکرات کی قیادت آسٹریلیا کرے گا۔
- عرب نیوز کے مطابق عہدہ چھوڑنے والے گوتیرش نے اسے گلوبل وارمنگ پر 'حقیقت کا لمحہ' کہا۔
- اقوام متحدہ کے مطابق درجہ حرارت 1.5 ڈگری تک محدود رکھنا اب ممکن نہیں، اندازہ 2.6 ڈگری تک ہے۔
- فوسل فیول کا مرحلہ وار خاتمہ اب بھی بڑا اختلافی نکتہ ہے۔
اقوام متحدہ کی 31ویں موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 ترکی کے شہر انطالیہ میں شروع ہو رہی ہے اور 9 سے 20 نومبر تک جاری رہے گی۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق تقریباً تمام ممالک کے مندوبین شریک ہیں اور مذاکرات کی قیادت آسٹریلیا کرے گا۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش، جو اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں، نے اسے گلوبل وارمنگ کے خلاف اقدامات کے لیے نازک 'حقیقت کا لمحہ' قرار دیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ زمین کے لیے لڑیں اور ایک دہائی پر محیط اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق شدید موسم مندوبین پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس گرمی میں یورپ کو شدید خشک سالی، انتہائی گرمی، جنگلات کی آگ اور اہم آبی گزرگاہوں میں پانی کی ریکارڈ کمی کا سامنا رہا۔ اگست کے آخر میں نیپال اور تبت میں برف اور چٹانوں کے تودے گرنے سے آنے والے سیلابی ریلوں میں 1400 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہوئے۔ ماہرین نے اس آفت کو برف پگھلنے اور بڑھتے درجہ حرارت سے جوڑا ہے۔
سائنسی صورت حال مشکل ہے۔ اقوام متحدہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا اب ممکن نہیں، جبکہ کاربن اخراج بدستور بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ اندازوں کے مطابق موجودہ وعدوں پر مکمل عمل ہو جائے تب بھی اضافہ 2.6 ڈگری تک ہو سکتا ہے۔
فوسل فیول سے تیزی سے ہٹنے کے بارے میں اتفاق رائے نہیں۔ 2025 کی کانفرنس میں ایسے ہی منصوبے پر معاہدہ کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مخالفت کے باعث ناکام ہوا تھا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق سعودی عرب حالیہ کانفرنسوں میں ایسے حتمی معاہدوں کو بار بار روکتا رہا ہے، جبکہ چین بھی مخالفت کر سکتا ہے۔ جرمن وزیر ماحولیات کارسٹن شنائیڈر نے کہا کہ جرمنی اور یورپی یونین فوسل فیول کے عالمی خاتمے کے لیے نئی رفتار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
کوپ کے ہر معاہدے کے لیے سب کی منظوری لازم ہے، اس لیے کوئی ایک ملک بڑے فیصلوں کو روک سکتا ہے۔ جنگیں، تجارتی تنازعات اور معاشی مسائل بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سین ڈیاگو کے ڈیوڈ وکٹر چھوٹے اتحادوں کو بہتر راستہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: 'اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس سے زیادہ کر سکتے ہیں' (انگریزی سے ترجمہ)۔
ترکی اور آسٹریلیا نے سبز صنعت کاری اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کو اپنے اہداف میں شامل کیا ہے۔ ایک ہدف یہ ہے کہ عالمی توانائی کھپت میں بجلی کا حصہ 2035 تک موجودہ تقریباً 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کیا جائے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیے کے مطابق بجلی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ایندھن درآمد کرنے والے ممالک کے توانائی بل 2035 تک 2025 کی سطح کے مقابلے میں 400 ارب ڈالر سے زیادہ کم کر سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نقصان اور تباہی کا تخمینہ سینکڑوں ارب ڈالر ہے اور کمزور ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی آفات کے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، اس لیے ان مذاکرات کا نتیجہ اس کی موسمیاتی فنڈنگ اور موافقت کے اقدامات پر اثر ڈالتا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق موسمیاتی نقصان اور تباہی کا تخمینہ سینکڑوں ارب ڈالر ہے اور کمزور ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیے کے مطابق بجلی کا استعمال بڑھانے سے ایندھن درآمد کرنے والے ممالک کے توانائی بل 2035 تک 400 ارب ڈالر سے زیادہ کم ہو سکتے ہیں۔



