ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

سعودی اتحاد کا ریاض کی جانب داغے گئے حوثیوں کے دو میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

سعودی قیادت میں اتحاد نے اتوار کو بتایا کہ حوثیوں کے ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے گئے۔ ریاض اور مشرقی صوبے کے کچھ حصوں میں سول ڈیفنس نے قبل از وقت انتباہی الرٹ جاری کیے تھے۔

سعودی اتحاد کا ریاض کی جانب داغے گئے حوثیوں کے دو میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
تصویر: Defensie / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • اتحاد کے مطابق اتوار کو ریاض کی جانب آنے والے حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ کیے گئے
  • چند گھنٹے قبل مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا ایک اور میزائل روکنے کا بھی بتایا گیا
  • سول ڈیفنس کے الرٹ ریاض، بقیق اور الاحساء کے لیے تھے، بعد میں بقیق، الاحساء اور دمام میں خطرہ ٹلنے کا اعلان ہوا
2ریاض کی جانب داغے گئے تباہ شدہ میزائل
911ہنگامی نمبر (مکہ، مدینہ، ریاض، مشرقی صوبہ)
998ہنگامی نمبر (دیگر علاقے)

سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد نے اتوار کو بتایا کہ اس کے فضائی دفاع نے حوثی گروہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے۔ یہ بات انادولو ایجنسی نے رپورٹ کی۔

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر کہا: "فضائی دفاع نے ریاض کی جانب دہشت گرد حوثی ملیشیا کے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے۔" (انگریزی سے ترجمہ)

اتحاد نے چند گھنٹے پہلے بتایا تھا کہ حوثیوں نے مملکت کے مشرقی صوبے کی جانب ایک اور بیلسٹک میزائل داغا جسے روک لیا گیا۔ انادولو کے مطابق یہ واقعات اتحاد اور حوثیوں کے درمیان جاری عسکری کشیدگی کا حصہ ہیں، اور حوثی سعودی علاقے کی جانب بار بار میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں۔

گلف نیوز کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض، بقیق گورنریٹ اور الاحساء گورنریٹ میں ممکنہ خطرے کے الرٹ جاری کیے۔ بعد میں سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ بقیق، الاحساء اور دمام میں خطرہ ٹل گیا ہے۔

سول ڈیفنس نے رہائشیوں سے کہا کہ پرسکون رہیں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور فوراً قریب ترین محفوظ مقام، مثلاً عمارت کے اندر یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمرے میں چلے جائیں۔ خطرہ ٹلنے تک گھروں کے اندر رہنے اور کھلی جگہوں، کھڑکیوں، شیشے، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔

باہر موجود افراد کو قریبی عمارت میں جانے یا کسی مضبوط آڑ کے پیچھے پناہ لینے کا کہا گیا۔ ڈرائیوروں کو پلوں اور بلند عمارتوں سے دور محفوظ جگہ گاڑی روکنے کی ہدایت دی گئی۔ لوگوں سے ہجوم اور خطرناک مقامات سے بچنے کی بھی اپیل کی گئی۔

سول ڈیفنس نے تصاویر اور ویڈیو بنانے سے منع کیا۔ اس نے خبردار کیا کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں یا گرنے کے مقامات سے متعلق معلومات کی فلم بندی، اشاعت یا شیئرنگ پر قانونی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔

خطرہ محسوس کرنے والے مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911 اور مملکت کے باقی علاقوں میں 998 پر کال کریں۔ رہائشیوں سے کہا گیا کہ سرکاری ذرائع سے جاری اطلاعات پر نظر رکھیں۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ اتحاد کے مطابق اس کے فضائی دفاع نے مدینہ کے علاقے کی جانب حوثیوں کا داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کیا۔ 4 نومبر کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کے حملے میں زخمی ایک بھارتی شہری چل بسا۔

یہ کیوں اہم ہے

سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی کارکن مقیم ہیں، اس لیے مملکت پر حملوں کا اثر خلیج میں روزگار اور سفر پر پڑتا ہے۔ ریاض اور مشرقی صوبے میں رہنے والے پاکستانیوں پر سول ڈیفنس کی ہدایات لاگو ہوتی ہیں، جن میں ہنگامی نمبر اور فلم بندی یا شیئرنگ سے متعلق انتباہ شامل ہے۔ ان علاقوں میں مقیم عزیزوں کے اہل خانہ پاکستان میں ان الرٹس پر نظر رکھ رہے ہوں گے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سعودی عربحوثیریاض

اس خبر پر مزید