غزہ میں طوفان سے 70 ہزار خیمے زیرِ آب، بے گھر خاندان پناہ سے محروم
غزہ کے حکام کے مطابق تیز بارش اور آندھی سے تقریباً 70 ہزار خیمے زیرِ آب آ گئے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مدد کے لیے سازوسامان نہیں اور متاثرہ خاندانوں کے پاس رہنے کی جگہ نہیں۔

- حکومتی میڈیا آفس کے مطابق جمعہ کی رات شروع ہونے والے طوفان میں تقریباً 70 ہزار خیمے زیرِ آب آئے
- سول ڈیفنس کو رات بھر 1,500 سے زائد مدد کی کالیں موصول ہوئیں اور اس کے پاس سازوسامان کی کمی ہے
- طبی ذرائع کے مطابق دیواریں اور ٹین کی چادر گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے
غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے مطابق تیز بارش اور آندھی سے پٹی بھر میں تقریباً 70 ہزار خیمے زیرِ آب آ گئے اور بے گھر فلسطینی خاندان پناہ سے محروم ہو گئے۔ طوفان جمعہ کی رات دیر سے شروع ہوا اور درجنوں دیواریں گر گئیں۔ دفتر نے ابتدائی نقصان کا اندازہ تقریباً 3 ملین ڈالر لگایا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ہفتے کی صبح سے بے گھر خاندان غزہ شہر، شمالی علاقوں اور وسطی غزہ کے کچھ حصوں میں کیمپ چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان میں بارش کا پانی بھر گیا۔ غزہ کے حکام نے دراڑیں پڑی دیواروں اور چھتوں کے گرنے کی بھی اطلاع دی جس سے لوگ زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔
انادولو ایجنسی کو طبی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں سے پہلے ہی متاثر عمارتوں کی دو دیواریں گرنے اور ٹین کی ایک چادر گرنے سے پانچ فلسطینی زخمی ہوئے۔
الجزیرہ کے مطابق فلسطینی سول ڈیفنس کو رات بھر 1,500 سے زائد کالیں موصول ہوئیں جن میں شہریوں نے فوری مدد مانگی۔ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے کہا: "ہم نے عالمی برادری اور انسانی امدادی تنظیموں سے فوری مداخلت کی ہنگامی اپیل کی ہے تاکہ خیموں میں پانی بھرنے سے لاکھوں بے گھر افراد کو بچایا جا سکے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے مزید کہا: "ہم اس طوفان کے نتائج کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتے۔" (انگریزی سے ترجمہ)
غزہ سول ڈیفنس کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر عبداللہ المجدلاوی نے کہا کہ امدادی کارکن جان کو فوری خطرات سے نمٹ سکتے ہیں مگر پناہ فراہم کرنے کے وسائل نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا: "ہم لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو پورا کیمپ اپنے خیموں، لوگوں، فرنیچر اور بستروں سمیت پانی میں ڈوبا ہوتا ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے محفوظ متبادل کی کمی کا سبب اسرائیلی ناکہ بندی اور موبائل گھروں و تعمیرِ نو کے سامان پر پابندیوں کو قرار دیا۔
غزہ میونسپلٹی کے ترجمان حسنی مہنا کے مطابق جن خاندانوں کے خیمے تباہ ہوئے ان کے پاس رہنے کی جگہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 لاکھ رہائشی اور بے گھر افراد غزہ شہر کے تقریباً 30 فیصد رقبے میں ٹھنسے ہوئے ہیں۔ شہر میں 12 گھنٹوں میں 60 ملی میٹر بارش ہوئی، جو سالانہ بارش کا تقریباً 15 فیصد ہے، اور بلدیاتی عملے نے محدود وسائل سے سڑکوں میں پانی بھرنے، کٹاؤ اور نالیاں بند ہونے کی 250 کالوں میں سے بیشتر پر کارروائی کی۔
مہنا نے خبردار کیا کہ غزہ شہر میں 270 کیمپ اور پناہ گاہیں زیرِ آب آنے کے خطرے میں ہیں، اور جنگ سے ہونے والے نقصان کے باعث نکاسی کے نظام کی گنجائش گھٹ کر 20 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گزرگاہیں مکمل کھولی جائیں تاکہ موسمِ سرما کی امداد، ریلیف کا سامان اور بھاری مشینری غزہ پہنچ سکے۔
اونروا نے جمعرات کو کہا کہ جون کے سروے کے مطابق 19 لاکھ 80 ہزار افراد، یعنی غزہ کی تقریباً 94 فیصد آبادی کو پناہ اور دیگر ضروری سامان درکار ہے، اور 58 فیصد کو پناہ کی شدید یا انتہائی سنگین ضرورت ہے۔ اکتوبر میں اوچا نے خبردار کیا تھا کہ 9 لاکھ 50 ہزار فلسطینی ایسے مقامات پر ہیں جہاں سیلاب کا خطرہ درمیانہ یا زیادہ ہے، اور ان میں 4 لاکھ سے زائد زیادہ خطرے والے علاقوں میں ہیں۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 7 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے مطابق موسمِ سرما کے پہلے طوفان کے 12 گھنٹوں میں تقریباً 70 ہزار خیمے زیرِ آب آئے، اور سول ڈیفنس کو 10 گھنٹوں میں تقریباً 1,500 مدد کی کالیں موصول ہوئیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں لوگ غزہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وہاں کے انسانی بحران عوام کی بڑی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سردیوں کے آغاز پر بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ کی شدید کمی ہے۔ امدادی اداروں اور مقامی حکام نے گزرگاہیں کھولنے اور سازوسامان و رسد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔



