خیبرپختونخوا کی جامعات کا وفاق سے 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کا مطالبہ
خیبرپختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے سرکاری جامعات کے لیے وفاق سے 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ مانگی ہے۔ خط کے مطابق صوبے کی 34 میں سے 26 سرکاری جامعات خسارے میں ہیں۔

- محکمہ اعلیٰ تعلیم نے ایچ ای سی کے چیئرمین کو خط لکھ کر 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ مانگی
- 34 میں سے 26 جامعات خسارے میں ہیں، مجموعی خسارہ 5 ارب 60 کروڑ روپے
- تقریباً 2 لاکھ طلبہ متاثر ہیں اور فیسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے
خیبرپختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کی سرکاری جامعات کے لیے وفاق سے 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد مالی خسارے میں چل رہی ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق صوبے کے سیکریٹری اعلیٰ تعلیم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین کو خط لکھا ہے۔ ایکسپریس نیوز نے بھی اس خط کی خبر دی ہے، جس میں یہ رقم وفاقی حکومت سے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کی 34 سرکاری جامعات میں سے 26 مالی خسارے کا شکار ہیں۔ ان جامعات کا مجموعی خسارہ 5 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔
سرکاری جامعات میں تقریباً 2 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ خط کے مطابق یہ طلبہ متاثر ہو رہے ہیں اور طلبہ اور ان کے خاندانوں پر فیسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 10 برس میں جامعات کو گرانٹس کی مد میں 18 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا، جبکہ تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات مسلسل بڑھتے رہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایچ ای سی کی گرانٹ گزشتہ تین سال میں 6.3 فیصد کم ہوئی، حالانکہ اخراجات میں 18 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
صوبائی حکومت نے جامعات کی گرانٹ بڑھا کر 11 ارب 85 کروڑ روپے کر دی ہے۔ خط میں اس رقم کو مالی مشکلات ختم کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
محکمے نے درخواست کی ہے کہ طلبہ پر مزید فیسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے اور گرانٹس ہر جامعہ میں طلبہ کی تعداد کے تناسب سے دی جائیں۔
رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایچ ای سی یا وفاقی حکومت نے اس مطالبے پر کوئی جواب دیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی فیصلے کی کسی مدت کا ذکر ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
خط کے مطابق خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کے تقریباً 2 لاکھ طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان طلبہ اور ان کے خاندانوں پر فیسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ جامعات پر تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے اخراجات کا بوجھ بھی ہے، جو عملے کو متاثر کرتا ہے۔ مطالبے میں کہا گیا ہے کہ طلبہ سے مزید فیس نہ لی جائے اور گرانٹ طلبہ کی تعداد کے مطابق دی جائے۔



