وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ منظور کر لیا
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کا مقصد مسابقت بڑھانا اور برقی گاڑیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دی۔
- مسودہ حتمی غور کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔
- برقی گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز تمام کسٹم ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ ہیں۔
- پالیسی کا ہدف شعبے کی برآمدات 20 کروڑ ڈالر سے تیس گنا بڑھانا ہے۔
ٹیک جوس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آٹو مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا اور برقی گاڑیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں منظوری کا اعلان کیا۔ حکومت اب منظور شدہ مسودہ حتمی غور کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کرے گی۔
ریاست کو امید ہے کہ پالیسی سے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق سابقہ حکومتوں نے مقامی کار سازوں کے تحفظ کے لیے درآمدی ڈیوٹیاں بلند رکھیں، جبکہ نئی پالیسی مزید کمپنیوں کو مارکیٹ میں آنے کی ترغیب دیتی ہے۔
پالیسی متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور عالمی آٹو پالیسیوں کے تقابلی جائزے کے بعد بنائی گئی۔ اس میں 800 سی سی تک کی پیٹرول گاڑیوں کے لیے موجودہ سہولتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
برقی گاڑیوں کے حوالے سے حکومت نے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو تمام کسٹم ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ کر دیا ہے اور چارجنگ انفراسٹرکچر پر لاگو سیلز ٹیکس کم کیا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان برقی گاڑیاں بنانے والوں کو مقامی پیداواری سہولتیں قائم کرنے کے مواقع دیتا ہے اور صنعت مقامی سپلائی چین بنا کر گاڑیاں عالمی منڈیوں میں برآمد کرے گی۔
تارڑ کے مطابق خواتین اور طلبہ میں برقی موٹر سائیکلوں اور اسکوٹروں کی طلب پائی جاتی ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو کسٹم اور ایکسائز محکموں کے ذریعے رجسٹر کرنے کی باقاعدہ پالیسی بھی تیار کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پالیسی کا ہدف شعبے کی برآمدات میں تیس گنا اضافہ ہے، جو اس وقت 20 کروڑ ڈالر ہیں۔ پالیسی میں اقوام متحدہ کے تحت 45 نئے حفاظتی معیارات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اس پالیسی سے پاکستان میں کاروں کی قیمتوں، مقامی کار سازوں کے درمیان مسابقت اور خریداروں کے لیے برقی گاڑیوں کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ 800 سی سی تک کی پیٹرول گاڑیوں کے مالکان اور خریداروں کی موجودہ سہولتیں برقرار رہیں گی۔ چارجنگ اسٹیشن لگانے کے خواہشمند کاروباروں کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ اور کم سیلز ٹیکس کا فائدہ ملے گا۔ عطا اللہ تارڑ نے خواتین اور طلبہ کو برقی موٹر سائیکلوں اور اسکوٹروں کی طلب رکھنے والوں میں شمار کیا۔ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خریدار مجوزہ رجسٹریشن پالیسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔



