ابھی ابھی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستانی وفد کی بیجنگ میں دوطرفہ تعلقات، سی پیک اور گوادر پر بات چیت

خارجہ امور کے ماہر محمد مہدی اور بلوچستان کے افسران پر مشتمل وفد نے بیجنگ میں ملاقاتیں کیں۔ ان میں دوطرفہ تعلقات، سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی ترقی پر گفتگو ہوئی۔

پاکستانی وفد کی بیجنگ میں دوطرفہ تعلقات، سی پیک اور گوادر پر بات چیت
تصویر: Unknown author / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • وفد چینی حکومت کی دعوت پر چین گیا، دورے کا اہتمام اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے کیا۔
  • بات چیت میں تجارت، سی پیک، گوادر بندرگاہ اور علاقائی روابط زیرِ بحث آئے۔
  • وفد نے چینی وزارتِ خارجہ، تیانجن یونیورسٹی اور کاروباری اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

اے پی پی اور منٹ مرر کے مطابق 8 نومبر کو ایک پاکستانی وفد نے بیجنگ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مستقبل پر بات ہوئی۔

وفد میں خارجہ امور کے ماہر محمد مہدی اور بلوچستان سے حکومتی نمائندے شامل تھے۔ وفد چینی حکومت کی دعوت پر چین گیا اور دورے کا اہتمام اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے کیا۔

بیجنگ میں وفد نے چینی وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام، تیانجن یونیورسٹی اور دیگر سرکاری، تعلیمی اور کاروباری اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ منٹ مرر کے مطابق ملاقاتوں میں وزارتِ خارجہ کے جنوبی ایشیا ڈویژن کے کونسلر چینگ وی اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی شیانگ شریک تھے۔ تیانجن انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ شپنگ سینٹر کے ڈائریکٹر گاؤ یوچنگ بھی موجود تھے۔

منٹ مرر کے مطابق گفتگو میں تجارت بڑھانے، اقتصادی تعاون مضبوط کرنے، گوادر بندرگاہ کی ترقی اور سی پیک کے ذریعے علاقائی روابط بڑھانے کے موضوعات شامل تھے۔

محمد مہدی نے گوادر کو مغربی ایشیا کا ممکنہ تجارتی دروازہ قرار دیا۔ ان کے بقول گوادر چین کو یورپ اور افریقہ تک مختصر ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی حکمتِ عملی سے بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے، اور سی پیک منصوبوں کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے لیے دونوں ممالک کے مربوط طریقۂ کار پر زور دیا۔

انہوں نے تیانجن بندرگاہ کو دنیا کی پہلی کاربن فری بندرگاہ بنانے کے اقدام پر چینی حکام کو مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ کراچی اور گوادر میں بھی ایسی ماحول دوست سہولیات بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بندرگاہوں کو بین الاقوامی معیار پر لانے سے اقتصادی تعاون کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر قاضی نعمت اللہ نے گوادر میں سماجی بہبود کے منصوبوں پر چین کی مسلسل معاونت کو سراہا اور صحت کے شعبے میں مزید تعاون پر بات کی، جس میں گوادر میں ہسپتال کا قیام بھی شامل ہے۔ گوادر پورٹ ڈویلپمنٹ کے نمائندے ہمل دشتی نے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا، جبکہ پاکستان کسٹمز کے نمائندے حیات مراد نے ثقافتی دوستی کے اظہار کے طور پر بلوچی شالیں اور ٹوپیاں پیش کیں۔

یہ کیوں اہم ہے

سی پیک منصوبوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری، روزگار اور بنیادی ڈھانچہ آتا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور وہاں صحت کی ممکنہ سہولت پر بات چیت بلوچستان کے رہائشیوں اور بندرگاہی روابط پر انحصار کرنے والے تاجروں کے لیے اہم ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کی اپ گریڈیشن کا ذکر ملک کے تجارتی ڈھانچے سے تعلق رکھتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سی پیکگوادرچین

اس خبر پر مزید