ابھی ابھی
دنیا2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایران کو امریکی مذاکرات پر شبہ، ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی تصدیق

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی اس کی سات شرائط پر امریکی جواب قائل کن نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فضائی دفاعی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی، جبکہ قطر ثالثی تیز کر رہا ہے۔

Components of the Dwight D. Eisenhower Carrier Strike Group (IKECSG), guided-missile cruiser USS Philippine Sea (CG 58) and USNS Supply (T-AOE-6) transit the S…
Components of the Dwight D. Eisenhower Carrier Strike Group (IKECSG), guided-missile cruiser USS Philippine Sea (CG 58) and USNS Supply (T-AOE-6) transit the S… تصویر: U.S. Navy photo by Petty Officer 3rd Class Janae… / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • ایران نے ہرمز کھولنے کی سات شرائط پر امریکی جواب کو غیر قائل کن قرار دیا۔
  • ٹرمپ نے ایرانی فضائی دفاعی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی؛ ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم نشانہ بنا۔
  • قطر اور پاکستان بالواسطہ رابطوں میں شامل ہیں اور کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
7ایران کی شرائط
2 دنتجویز کردہ دوبارہ کھولنے کی مدت
لیمح سے 14 سمندری میل شمال مشرقٹینکر پر حملے کا مقام

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر گہرے شکوک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اس کی تجاویز پر واشنگٹن کا جواب ناکافی ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح ایک ایرانی ہدف پر امریکی حملوں کی تصدیق کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران سفارت کاری کے لیے تیار ہے مگر واشنگٹن کی نیت پر اسے کم اعتماد ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایک سال سے کم عرصے میں مذاکرات کے دوران دو بار ایران پر حملہ کیا، اور اسلام آباد مفاہمت کے تحت طے پانے والے وعدے پورے نہیں کیے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے مطالبہ دہرایا کہ مذاکرات آگے بڑھنے اور آبنائے کھلنے سے پہلے امریکا سات شرائط پوری کرے۔ ان کے بقول "ایران کے حقوق اور مطالبات پر امریکا کا جواب قائل کن نہیں تھا، اور اسے ایران کی سات شرائط کا مکمل اور واضح جواب دے کر ان پر عمل کرنا ہوگا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے کچھ مطالبات مانے ہیں جبکہ دیگر معاملات حل طلب ہیں۔

ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور اپنی شرائط پر عمل کو جہاز رانی معمول پر لانے کی پیشگی شرط بنایا ہے۔ بقائی کے مطابق تجویز بدستور موجود ہے اور مطالبات مانے جانے پر عمل درآمد کی مدت سات دن سے گھٹا کر دو دن کی جا سکتی ہے۔ شرائط میں پابندیاں ہٹانا اور ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہیں۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ حملہ فضائی دفاعی تنصیب پر کیا گیا اور اسے معمولی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "انہوں نے فضائی دفاعی تنصیب بنائی۔ اس میں تقریباً دو ماہ لگے۔ ہم اسے بنتے دیکھتے رہے۔ جیسے ہی مکمل ہوئی، ہم نے گزشتہ رات اسے نشانہ بنایا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم نشانہ بنا۔ امریکی حکام نے کہا کہ حملے دفاعی تھے اور ایک امریکی طیارے پر ایرانی فائرنگ کے بعد کیے گئے۔

قطر اور پاکستان سمیت ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ بات چیت جاری ہے اور دونوں فریق مذاکراتی عمل پر قائم ہیں۔ قطر فریقین کے درمیان تجاویز کے فوری تبادلے میں سہولت دے رہا ہے۔

یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ منگل کو عمان کے ساحلی گاؤں لیمح سے تقریباً 14 سمندری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کے انجن روم پر دو نامعلوم میزائل لگے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ چار ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے اور دو جہاز قبضے میں لیے گئے؛ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنگ فروری میں شروع ہونے کے بعد سے آبنائے شدید متاثر ہے۔

امریکی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ سینٹرل کمانڈ نے ایسے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں جو وسط مدتی انتخابات کے بعد بدھ سے شروع ہو سکتے ہیں، اور خطے میں تین طیارہ بردار بحری جہاز ہوں گے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے فوج کو ہر خطرے کا فوری اور جغرافیائی حد کے بغیر جواب دینے کا حکم دیا۔ سخت گیر ایرانی اخبارات نے خبردار کیا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یورپ میں امریکی اور نیٹو اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ کشمکش خلیج کے استحکام، تیل اور ایل پی جی کی قیمتوں اور بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کے روزگار پر اثر ڈالتی ہے۔ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں شامل ثالثوں میں بھی شمار ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانآبنائے ہرمزایران امریکا مذاکرات

اس خبر پر مزید