ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
دنیا8 ذرائع سے تصدیق شدہ

امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میں

امریکیوں نے منگل 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالے، جن سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت کے آخری دو برس کے لیے کانگریس کا کنٹرول طے ہوگا۔ لاکھوں افراد پہلے ہی ووٹ ڈال چکے تھے اور ابتدائی ووٹنگ کی شرح گزشتہ وسط مدتی انتخابات سے بڑھنے کی رفتار پر تھی۔

Photo: election day, election, note, vote
Photo: election day, election, note, vote تصویر: OrnaW / Pixabay
اہم نکات
  • امریکا بھر میں منگل 3 نومبر کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ شروع ہوئی۔
  • نتائج سے ٹرمپ کی مدت کے آخری دو برس کے لیے کانگریس کا کنٹرول طے ہوگا۔
  • ابتدائی ووٹنگ کی شرح گزشتہ وسط مدتی انتخابات سے آگے جانے کی رفتار پر تھی۔
  • مشی گن کی سینیٹ نشست سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں شامل ہے۔
3 نومبر 2026انتخابات کا دن
4 کروڑ 50 لاکھ ڈالرلیڈنگ دی فیوچر کا خرچ
8 کروڑ ڈالرپبلک فرسٹ ایکشن کے جمع کردہ فنڈ

یورونیوز کے مطابق امریکیوں نے منگل 3 نومبر کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا۔ اس ووٹنگ سے طے ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت کے آخری دو برس میں کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔

یورونیوز کے مطابق ورجینیا کے شہر فیئر فیکس میں ووٹروں نے پولنگ اسٹیشنوں پر اندراج کرایا اور ووٹ ڈالے۔ ٹائم زون کے فرق کی وجہ سے ملک بھر میں پولنگ مختلف اوقات میں شروع ہوتی ہے، اور بعض مغربی ریاستوں میں ووٹنگ شروع ہونا باقی تھی۔

انتخابات کے دن سے پہلے ہی لاکھوں امریکی ووٹ ڈال چکے تھے۔ یورونیوز کے مطابق ابتدائی ووٹنگ کی شرح گزشتہ وسط مدتی انتخابات سے بڑھنے کی رفتار پر تھی۔

فرانس 24 کے مطابق مشی گن کی سینیٹ نشست کا مقابلہ ملک میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں سے ایک ہے۔ اتوار کو ڈیموکریٹ کانگریس رکن ہیلی سٹیونز نے اپنی جماعت کے امیدوار عبدالمالک ال سید کے بجائے ریپبلکن مائیک راجرز کی حمایت کر دی، جس سے مقابلے نے غیر متوقع موڑ لیا۔

فرانس 24 کے مطابق دونوں امیدواروں نے پیر کی شام انتخابی جلسوں میں ووٹروں سے آخری اپیل کی۔ ترقی پسند امیدوار ال سید نے کہا: "سیاست سے پیسہ نکال کر آپ کی جیب میں ڈالیں گے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ مہنگائی کئی ووٹروں کی بڑی تشویش ہے۔

فرانس 24 نے اس مقابلے کو ایک اہم سوئنگ ریاست میں دو بالکل مختلف حکمت عملیوں کا امتحان قرار دیا جو سینیٹ کے کنٹرول کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس کے مطابق ال سید اب تک رائے شماری میں راجرز سے آگے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ستاروں میں شمار ہو رہے ہیں۔

دی ورج کے مطابق ان انتخابات سے ٹرمپ کے اختیارات کی حد طے ہوگی اور 2028 کے صدارتی انتخاب سے پہلے ووٹروں کی ترجیحات سامنے آئیں گی۔ اس کے مطابق زیادہ تر مقابلوں میں مہنگائی کا مسئلہ نمایاں ہے، جبکہ ڈیٹا سینٹرز، توانائی کے اخراجات، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور نگرانی کی ٹیکنالوجی بھی ووٹروں کے ذہن میں ہیں۔

دی ورج نے یہ بھی بتایا کہ مارک اینڈریسن اور گریگ براک مین کی حمایت یافتہ سپر پیک لیڈنگ دی فیوچر 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ کر چکی ہے، جبکہ اینتھروپک کی حمایت یافتہ پبلک فرسٹ ایکشن کے مطابق اس نے 8 کروڑ ڈالر جمع کیے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

وسط مدتی انتخابات کے نتائج ایران، اسرائیل، خطے اور امداد سے متعلق واشنگٹن کی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

امریکی وسط مدتی انتخاباتمشی گنکانگریس

اس خبر پر مزید